.

ایران تمام مغربی پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں

مغربی ممالک حتمی معاہدے سے قبل پابندیاں ختم کریں: بروجردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک اعلیٰ عہدے دار کا کہنا ہے کہ ان کا ملک نومبر کی ڈیڈ لائن سے قبل جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کے حصے کے طور پر مغربی ممالک کی جانب سے عاید کردہ تمام اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔

ایرانی پارلیمان کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے چئیرمین علاءالدین بروجردی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے بتدریج پابندیاں ختم کرنے کی تجویز ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔انھوں نے پیرس میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگروہ 24 نومبر تک حتمی معاہدہ چاہتے ہیں تو پھر فوری طور پر پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔

انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب ایران اور چھے بڑی طاقتیں جوہری تنازعے سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کوششیں تیز کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی نے ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے 24 نومبر کی ڈیڈلائن مقرر کررکھی ہے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات میں شریک ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ اس ڈیڈلائن تک حتمی ڈیل کا امکان نظر نہیں آرہا ہے اور اس کے لیے تہران کو نمایاں لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اس مجوزہ معاہدے کا اصل مقصد ایران کو جوہری بم کی تیاری سے روکنا،اس کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام پر قدغنیں لگانا اور مشتبہ جوہری تنصیبات کو بند کرنا ہے۔اس کے جواب میں عالمی برادری ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو معطل کردے گی اور پھر بتدریج ختم کردے گی۔تاہم فریقین کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہونے کے باوجود تصفیہ طلب امور کو طے نہیں کیا جاسکا ہے۔