.

داعش کے حامیوں کی شام اور عراق آمد روکنے میں ناکامی

جہاد افغانستان کے زمانے کی یاد تازہ ہو گئی: واشنگٹن پوسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہر ماہ ایک ہزار سے زائد غیر ملکی جہادی عراق اور شام میں داعش کی مدد کو پہنچ رہے ہیں۔ امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اس بڑی تعداد میں عسکریت پسند عالمی اتحادیوں کی بمباری اور دیگر اقدامات کے باوجود پہنچ پانا غیر معمولی بات ہے۔

امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق امریکا اور اتحادیوں کی داعش مخالف جنگی مہم کے باوجود داعش کے حامی عسکریت پسندوں کو جنگ زدہ علاقوں میں داخل ہونے سے روکنے میں عالمی اتحادیوں کو کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق '' جنگجووں کی آمد کا بہاو جاری ہونے کی وجہ سے داعش کی مجموعی تعداد اور افرادی قوت میں کمی نہیں ہو پا رہی۔''

واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلی جنس کے ذرائع کے حوالے سے شائع کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے '' پچھلے سال ہر ماہ ایک ہزار عسکریت پسندوں کی آمد مستحکم ہو گئی تھی۔ جس کی وجہ سے غیر ملکی جنگجووں کی مجموعی تعداد 16000 تک پہنچ گئی۔

ان عسکریت پسندوں کی آمد کی یہ رفتار تقریبا اسی طرح جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1980 کی دہائی جہاد افغانستان کے دوران بھی اسی انداز سے جہادی آتے تھے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام اور عراق کی طرف جہادیوں کی منتقلی کی رفتار کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریبا 15000 غیر ملکی عسکریت پسند ان ملکوں میں موجود ہیں۔ 2010 سے اب تک یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ عسکریت کو رد کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شام میں جنگجووں کی تعداد آئندہ دنوں میں اور بڑھ سکتی ہے۔