.

ترکی سے کبھی معذرت نہیں کی: جو بائیڈن

ترک صدر سے ہارورڈ یونیورسٹی میں تقریر کی وضاحت کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن نے ترکی مخالف بیان پر صدر رجب طیب ایردوآن سے معذرت کی تھی؟ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جی ہاں! انھوں نے ایسے ہی کیا ہے لیکن خود جوبائیڈن صاحب فرماتے ہیں کہ انھوں نے تو کوئی معذرت شذرت نہیں کی ہے۔

مسٹر جوبائیڈن نے ہارورڈ یونیورسٹی میں گذشتہ ماہ ایک تقریر کے دوران امریکا کے تین اتحادی ممالک پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ عراق وشام(داعش) کو پروان چڑھانے میں مدد کی تھی۔اس پر ان ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ان سے معافی کا مطالبہ کیا تھا جس پر جوبائیڈن نے ان ممالک کے ارباب اقتدار سے فون پر بات کی تھی اور ان سے اپنے بیان پر معذرت کی تھی۔

اکتوبر کے اوائل میں وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں مذکورہ کہانی ہی بیان کی تھی لیکن امریکی نائب صدر نے سوموار کو وائٹ ہاؤس کی تردید کرد؛ی ہے اور کہا ہے کہ ان فون کالز کا یہ مطلب نہیں تھا کہ انھوں نے کوئی معذرت بھی کی تھی۔

جوبائیڈن نے سوموار کو سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''نہیں ،میں نے معذرت نہیں کی تھی۔میں نے کبھی ان (رجب طیب ایردوآن) سے معذرت نہیں کی تھی۔میں انھیں اچھی طرح جانتا ہوں۔میں نے ان سے فون پر بات کی اور ان سے کہا کہ دیکھیں جو کچھ رپورٹ ہوا ہے،وہ درست نہیں ہے بلکہ میں نے تو یہ کہا تھا''۔وہ اپنی مذکورہ تقریر کی وضاحت کررہے تھے۔

انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی میں تقریر میں انکشاف کیا تھا کہ رجب طیب ایردوآن نے ان کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ ترکی نے شامی تنازعے کے اوائل میں غلطی سے داعش سمیت غیرملکی جنگجوؤں کی حمایت کی تھی۔ امریکی نائب صدر نے امریکا کے دو اہم اتحادی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بارے میں بھی ایسے ہی کلمات ارشاد کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک نے شامی صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے ہر کسی جنگجو گروہ پر کروڑوں ڈالرز نچھاور کردیے تھے اور ہزاروں ٹن اسلحہ دیا تھا لیکن ان میں سے بعض اثاثے القاعدہ سے وابستہ گروپوں کے ہاتھ لگ گئے تھے۔

ان کی اس تقریر کے دو ایک روز بعد ہی امریکی نائب صدر کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے الگ الگ واضح بیانات میں کہا تھا کہ بائیڈن نے ایردوآن سے معذرت کی ہے۔ جب اس اختلاف کے بارے میں ان کے دفتر سے رابطہ کیا گیا ہے کہ کیا وہ معافی پر مبنی اپنے پہلے بیان کی اب بھی تائید کرتا ہے یا نہیں۔

اس پر دفتر نے کہا ہے کہ بائیڈن کی تقریر سے متعلق ''حقیقی غلط فہمی'' پیدا ہوئی ہے۔اس نے اپنی پہلی وضاحت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائب صدر کا کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ ترکی نے داعش کی حمایت کی تھی۔دفتر کا مزید کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر اسی ماہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما ترکی پر یہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ داعش کے خلاف جنگی مہم میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرے۔جوبائیڈن اسی سلسلے میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔امریکا ترکی سے داعش کے خلاف عراق اور شام میں فضائی مہم کے لیے فوجی اڈے دینے کا مطالبہ کررہا ہے لیکن ترکی نے ابھی تک اس کا یہ مطالبہ نہیں مانا ہے۔