.

فرانس: الجزائری صدر بوتفلیقہ اسپتال میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو ایک مرتبہ پھر فرانس کے شہر گرینوبل کے ایک اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

فرانسیسی حکومت اور پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ الجزائری صدر کو جمعہ کے روز گرینوبل کے کلینک میں منتقل کیا گیا ہے لیکن اس کلینک نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا ہے کہ ستتر سالہ صدر کو کیوں داخل کیا گیا ہے اور ان کی حالت کیسی ہے۔

الجزائری ایوان صدر نے بھی اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی اور صرف یہ کہا ہے کہ وہ جلد ایک بیان جاری کرے گا۔عبدالعزیز بوتفلیقہ کی گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے صحت خراب چلی آرہی ہے۔وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور انھیں گذشتہ سال بھی دل کا ہلکا دورہ پڑنے کے بعد پیرس کے اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ کئی ماہ تک زیرعلاج رہے تھے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے اسی ہفتے صدر بوتفلیقہ سے الجزائر میں ملاقات کی تھی اور ان سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔انھوں نے بعد میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ''صدر بوتفلیقہ کو بولنے میں دشواری کا سامنا ہے لیکن دانشورانہ لحاظ سے وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں''۔

عبدالعزیز بوتفلیقہ 2013ء میں دل کا ہلکا دورہ پڑنے کے بعد 80 دن تک پیرس کے اسپتال میں زیرعلاج رہے تھے اور اُسی سال جولائی میں وطن لوٹے تھے۔اس کے بعد کئِی ماہ تک وہ عوامی نظروں سے اوجھل رہے تھے۔انھیں جنوری 2014ء میں ایک مرتبہ پھر پیرس لے جایا گیا تھا۔

انھوں نے اس خراب صحت کے باوجود اپریل میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور اسی فی صد سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے تھے لیکن حزب اختلاف نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

چوتھی مرتبہ صدر منتخب ہونے کے بعد سے وہ بہت کم منظرعام پر آئے ہیں۔انھیں دو ایک مرتبہ وہیل چئیر پر بیٹھَ ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس مرتبہ تو وہ الجزائری صدور کی عیدالضحیٰ کے موقع پر عوام میں گھلنے ملنے کی روایت کو بھی برقرار نہیں رکھ سکے اور وہ گذشتہ ماہ عید کے ایام میں عام لوگوں یا ارباب اقتدار کے درمیان کہیں نہیں دیکھے گئے تھے۔