.

برطانیہ :ہتھوڑا حملے میں ملوّث شخص کو عمر قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں ایک عدالت نے تین اماراتی خواتین پر ہتھوڑے سے قاتلانہ حملے میں ملوث شخص کو قصوروار قرار دے کر عمرقید کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت نے اس مجرم کو تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی ہے اور وہ کم سے کم اٹھارہ سال اب جیل میں بند رہے گا۔تینتیس سالہ مجرم فلپ اسپینس نے لندن کے لگژری کمبرلینڈ ہوٹل میں 6 اپریل کو تین اماراتی خواتین پر ہتھوڑے سے حملہ کیا تھا۔اس وقت وہ اپنے بچوں کے ساتھ سورہی تھیں۔مجرم نے عدالت میں اس حملے کا اعتراف کیا تھا مگر کہا تھا کہ وہ انھیں قتل نہیں کرنا چاہتا تھا۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ تینوں خواتین چھٹی منانے کے لیے تین اپریل کو لندن آئی تھیں۔وہ وقوعہ کی رات جلد سو گئی تھیں لیکن جب ملزم اسپنس آدھی رات کے وقت ان کے سوئٹ میں داخل ہوا تو ان کی آنکھ کھل گئی تھی۔

ملزم رائفل سے مسلح تھا اور اس نے ان سے رقم کا تقاضا کیا تھا۔اس کے بعد ان میں سے ایک خاتون کے سر پر ہتھوڑے سے متعدد ضربیں لگائی تھیں۔اسی طرح اس نے دوسری بہن پر بھی حملہ کیا اور پھر تیسری پر حملہ کردیا تھا۔ ہتھوڑے کے وار سے تیسری خاتون کی کھوپڑی کھل گئی تھی اور اس کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔بعد میں سرجری کے دوران اس کی ایک آنکھ کی بینائی بھی جاتی رہی تھی۔اب وہ بول بھی نہیں سکتی ہے۔

ان تینوں بہنوں میں سے ایک فاطمہ آل نجار نے عدالت کے روبرو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ''اس حملے نے ہمیشہ کے لیے میری زندگی کو تبدیل کردیا ہے اور میں اپنا سب کچھ کھو بیٹھی تھی''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''ان کی بہن اوہُود اب ساری زندگی کے لیے صرف اسپتال کے بستر کی ہوکر رہ گئی ہے،وہ بات نہیں کرسکتی ،وہ حرکت کرسکتی ہے اور نہ کچھ کھا سکتی ہے۔وہ اب مردہ بدست زندہ ہے''۔

ملزم اسپینس ان کے ہوٹل کے کمرے سے اشیاء سے بھرا ہوا سوٹ کیس لوٹ کر لے گیا تھا۔برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ پتا چل سکے کہ ان خواتین کو ان کی قومیت کی بنا پر حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔واضح رہے کہ اس حملے کے چند روز کے بعد ایک اور اماراتی خاندان پر بھی اسی انداز میں حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد متحدہ عرب امارات سے تفریح کی غرض سے لندن جانے والے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا تھا۔