.

امریکا کی نوجوان مراکشی کاروباریوں کے لیے امداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے مراکش میں نوجوان کاروباریوں کی مدد کے لیے سرکاری،نجی شراکت کے تحت پانچ کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔

اس بات کا اعلان امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن نے مراکش کے شہر مراکش میں منعقدہ پانچویں عالمی انٹرپرینورشپ سمٹ کے موقع پر کیا ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ امریکا کی جانب سے یہ سرمایہ کاری میلنیم چیلنج کارپوریشن کرے گی۔اس کارپوریشن نے اس سے پہلے مراکش میں ستر کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ نِئی سرمایہ کاری کارپوریشن کے بورڈ اور کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے اور یہ 2015ء میں طے پانے والے ایک سمجھوتے کے حصے کے طور پر کی جائے گی۔

جوبائِیڈن نے کانفرنس میں مزید بتایا کہ امریکا اور سویڈش آٹوموبائل مینوفیکچرر والوو مراکش میں کاروباریوں کے لیے ایک تربیتی اکیڈیمی قائم کریں گے۔اس اکیڈیمی میں ہرسال مراکش ،آئیوری کوسٹ اور سینی گال سے تعلق رکھنے والے ایک سو پچاس طلبہ کو تربیت دی جائے گی اور اس کا محور صنعتی اور تجارتی آلات کی مرمت ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت مراکش کے شمال میں واقع ہمسائے اسپین کی شراکت سے بحر متوسطہ پر تینجر کی بندرگاہ پر ایک جدید کولڈ اسٹوریج کے قیام کے لیے ستر لاکھ ڈالرز کی رقم مہیا کرے گی۔اس سے مراکش کی زرعی پیداوار کو برآمد کرنے کے لیے اسٹور کرنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ امریکا اور مراکش کے درمیان 2004ء میں آزاد تجارت کا معاہدہ طے پایا تھا۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مذکورہ سرمایہ کاری اسی معاہدے کو تقویت پہنچانے کے لیے کی جارہی ہے۔

جوبائیڈن نے اپنی تقریر میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور معاشرے میں خواتین کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر ہم جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں،اس کا حصول مشکل ہوجائے گا۔