5+1 اور ایران کے درمیان مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے پچھلے ایک سال سے نشست وبرخاست کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک سال پیشتر شروع ہونے والی بات چیت چار ماہ قبل ناکامی سے دوچار ہوئی تو اس میں مزید چار ماہ کی مہلت دی گئی۔ پچھلے سات روز سے مسلسل مذاکراتی میراتھان کے باوجود فریقین مسئلے کے کسی متفقہ حل تک پہنچنے میں ناکام رہے جس کے بعد مذاکراتی مساعی کے لیے مزید سات ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایران کا ’جن‘ بوتل میں بند کرنے کے لیے سات ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ آئندہ سال جون میں فیصلہ ہو گا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے دست بردار ہوتا ہے یا مزید اقتصادی پابندیاں قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے ایٹمی پروگرام کا تنازعہ کوئی نیا ایشو نہیں بلکہ یہ پچھلے 10 سال سے عالمی برادری اور تہران کے درمیان کھینچا تانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ متنازع جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے عالمی طاقتوں نے ایران سے کس کس ملک کی میزبانی میں مذاکرات نہیں کیے؟

مذاکرات اور مفاہمتی بات چیت کبھی ترکی کے شہر استنبول میں ہوتی اور کبھی عالمی امن کے ٹھیکیدار ایرانی جوہری تنازعہ کو لے کر بغداد میں سرجوڑ کر بیٹھ جاتے۔ کبھی وہی تجربہ ماسکو اور کبھی الماتا میں دہرایا جاتا۔ نشست و برخاست کبھی کازخستان میں ہوتی اور کبھی جنیوا کو رونق بخشی جاتی۔ نیویارک، مسقط اور ویانا میں بھی کئی بار مذاکرات کے لیے میدان سجائے گئے لیکن بر بار معاملہ ’’اگلی دفعہ‘‘ کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔ اب بھی تو ایسے ہی ہوا ہے اور معاملہ اب سات ماہ کے بعد جون تک کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

تازہ مذاکراتی کوششیں کیوں ناکام ہوئیں۔ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو ہر جگہ تکرار اور اصرار کے ساتھ پوچھا جا رہا ہے۔ ہر کہیں اس کی تفصیلات بھی مخلتف ہیں مگر العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں اس سوال کا جوب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 18 نومبر کو جب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران کے ساتھ ویانا میں مذاکراتی عمل کا آغاز کیا تو فریقین کی بدن بولی سے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ دونوں میں سے کوئی ایک فریق بھی لچک کا مظاہرہ کرنے پر تیار نہیں ہے۔

چھ عالمی طاقتوں کا بنیادی مطالبہ تھا کہ ایران یورنیم افزودگی کی مقدار کم کرنے کے ساتھ ساتھ ’’آراک‘‘ نامی ایٹمی ری ایکٹر سمیت کئی دوسری جوہری تنصیبات بند کرے جبکہ ایران اس کے بدلے اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے ٹائم فریم کا مطالبہ کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تنازع ایک درخت کی شاخوں اور ٹہنیوں کی طرح ہمہ پہلو اور ہمہ جہت حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے کسی ایک پہلو پر اتفاق رائے ہو جائے تو معاملہ دوسرے پر اٹک جاتا ہے۔ مثال کے طور پر صرف یورینیم افزودگی ہی کا مسئلہ لے لیں۔ اس کے بھی بہت سے پہلو ہیں۔ یورینیم افزودگی کیسے ہو گی؟ اس کے لیے طریقہ کار کونسا اختیار کرنا ہو گا؟ کون کون سے آلات کے استعمال کی اجازت ہو گی، کس جگہ افزدہ کیا جا سکے گا اور خاص طور پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی کو کیسے یقینی بنایا جائے گا؟

ایک فرانسیسی سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بنیادی نقطہ جس پر فریقین میں ہونے والی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی وہ عالمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کا طریقہ کار اور یورینیم افزودگی کی مقدار ہے۔

عالمی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فریقین میں بات چیت کے مسلسل تعطل کا شکار ہونے کی دوسری وجہ ایران کا مطالبہ کہ تہران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے ٹایم فریم دیا جائے۔ امریکا کی تجویز ہے کہ اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ بتدریج کیا جائے لیکن ایران اس پر تیار نہیں ہے۔ اس کا اصرار ہے کہ اقتصادی پابندیاں یک باری ختم کی جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو سلامتی کونسل کی جانب سے چار سال قبل منظور کردہ قرارداد نمبر 1929 کی تلوار اپنی جگہ موجود ہے جس میں واضح کر دیا گیا تھا کہ اگر کوئی ملک اپنی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے عالمی توانائی ایجنسی سے تعاون نہیں کرتا اس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس قرارداد کی منظوری کے باوجود یورپی ممالک اور اب امریکا نے ایران سے معاملہ کرنے میں نرمی کا مظاہرہ کیا۔ یورپی ملکوں کی طرف سے کافی حد تک اقتصادی پابندیوں میں نرمی بھی کی گئی ہے۔

ایران کی کوشش ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی جانب سے عاید اقتصادی پابندیوں میں ریلیف حاصل کرے اور چین، بھارت اور ترکی جیسے ممالک کو ایران کے تیل کی ترسیل کھلے عام ممکن بنائی جا سکے۔

فرانسیسی سفارت کار کا کہنا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں میں حالیہ چند ماہ کے دوران مذاکرات کی 10 کوششیں ہوچکی ہیں۔ ہر بار ہونے والی کوششوں میں عالمی برادری کو ایران کی جانب سے مایوس کن رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وہ مایوسی ہے جس نے فریقین کو کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے نہیں دیا۔

اگرچہ ایران کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے اس کے مذاکرات کار نہ صرف با اختیار ہیں بلکہ وہ کھلے دل کے سات مذاکراتی عمل میں شریک ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایرانی مذاکرات کاروں کی جانب سے مفاہمت کا معمولی مٖظاہرہ بھی نہیں کیا گیا۔

فرانسیسی تجزیہ نگار نے بتایا کہ پچھلے جنیوا مذاکرات میں ایران نے عارضی طور پر'آراک' ایٹمی ری ایکٹر بھاری پانی کی تیاری اور پلوٹونیم کے مواد کی تیاری روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ اب کی بار مذاکراتی کوششوں میں بھی ایران سے یہی مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایٹم بم میں استعمال ہونے والے پلوٹونیم مواد کی تیاری روک دے۔

اس کے علاوہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان یورینیم کے سینٹری فیوز کی تیاری کے لیے پرانے سسٹم کو استعمال کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ پرانے سسٹم کو"آر 1" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ ایران کا اصرار تھا کہ وہ یورنیم افزودگی کے لیے ایڈوانس ’’آر 2‘‘ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس نئے سسٹم میں یورنیم کی افزودگی نہایت تیزی کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کا استعمال ممنوع ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت 19 ہزار سینٹری فیوجز ہیں جن میں سے 09 ہزار سینٹری فیوجز تیار حالت میں ہیں۔ عالمی طاقتوں کا یہ مطالبہ بھی ر ہا ہے کہ ایران ان تیاری شدہ سینٹری فیوجز کی تعداد میں اگر زیادہ نہیں تو کم سے کم چند ہزار کی کمی ضرور کرے۔

جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ یورینیم افزددگی کا مقصد جوہری بم تیار کرنا نہیں بلکہ توانائی کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہیں صرف انیس ہزار نہیں بلکہ اس میں دس گنا اضافے کی ضرورت ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ اس مقدار کو ایک لاکھ نوے ہزار سینٹری فیوجز تک لے جانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں