.

خودکشی کا تعلق مساوات مرد و زن سے ہے: ترک وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر اعظم احمد داود اوگلو نے مرد و زن کے درمیان 'میکانکی مساوات ' کو ترقی یافتہ ملکوں میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح کا سبب قرار دیا ہے۔

یاد رہے چند روز قبل ترک صدر رجب طیب ایردوآن بھی مساوات مرد و زن سے متعلق ایسے ہی ملتے جلتے خیالات کا اظہار کر کے ملک اور بیرون ملک نئی بحث کا آغاز کر چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ [آق] کے خواتین ونگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر اعظم نے استفسار کیا کہ "بعض ترقی یافتہ اور سیکنڈینوین ممالک میں سالانہ قومی آمدنی کا تناسب انتہائی زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں خودکشی کی شرح میں اضافہ کیوں ہے؟"

اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے داود اوگلو نے بتایا کہ "مرد و زن کے درمیان میکانیکی مساوات سے زندگی کا تکمیلی تعلق تباہی کا شکار نظر آتا ہے۔"

اوگلو کے بقول: "ہماری خواتین انسانیت کو زندہ رکھنے کے نیک مشن کو پورا کر رہی ہیں۔ انہیں بچوں کی ولادت سے پہلے اور بعد آرام کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بچوں کے لئے وقت نکال سکیں۔ انہیں یہ حق دینا احسان نہیں بلکہ ہم پر واجب ہے۔"

انہوں نے 'مامتا' کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اس فطری رشتے کی ترویج میں اہم کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

ترک وزیر اعظم نے خواتین کے خلاف تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صنف نازک کے پر تشدد کرنے والے دراصل اپنی کمزوری اور رسوائی کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تشدد چاہے خاندان کے اندر ہو جس میں ایک باپ، بیٹی کے منہ پر درد مندانہ انداز میں طمانچہ رسید کرتا ہے۔ یہ اقدام طمانچہ کھانے والے بچوں کے دلوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

ترک رہنما نے اپنی جماعت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سنہ دو ہزار گیارہ کے پارلیمانی انتخابات میں آق پارٹی کی ٹکٹ پر 14.5 فیصد خواتین رکن پارلیمان منتخب ہو کر آئیں۔

انہوں نے وعدہ کہا کہ وہ جلد ہی ان منتخب خواتین کی تعداد کو 25 فیصد تک لیجانا چاہتے ہیں۔ آق پارٹی یہ مقصد حاصل کرنے کے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ ہماری جماعت دوسروں کی نقالی کرنے کے بجائے دوسروں کو اپنی پیروی پر مجبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔