.

کیا نقاب پر پابندی لگنی چاہیے؟ خلیجی میڈیا میں بحث

ابوظہبی کے بوتیک سنٹر میں ایک امریکی خاتون ہلاک ہوئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بعض مقامی اخبارات نے ایک برقعہ پوش خاتون کے ہاتھوں مبینہ طور پر امریکی خاتون کی چاقو سے ہلاکت کے واقعے کے بعد یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا اسلامی پردے میں چہرہ ڈھانپنے پرپابندی لگا دینی چاہیے؟

اس برقعہ پوش خاتون کو ایک شاپنگ سنٹر میں نگرانی کے لیے لگے کیمروں سے ملنے والی فوٹیج کی کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اس خاتون پر الزام ہے کہ اس نے شاپنگ مال کے اندر ہی امریکی خاتون کو چاقو مار کر ہلاک کیا ہے۔

خلیج سے شائع ہونے والے انگریزی کے اہم اخبار گلف نیوز نے اس بارے میں بحث چھیڑتے ہوئے پوچھا ہے کہ '' کیا سکیورٹی کی ضروریات کے پیش نظر نقاب نہیں اوڑھا جانا چاہیے۔

اخبار کے مطابق امریکی سکول ٹیچر خاتون کی ابو ظہبی کے ایک شاپنگ مال میں چاقو گھونپنے سے ہونے والی موت نقاب پوش کے ہاتھوں شاپنگ مال کے ریسٹ روم میں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے پورے ملک میں ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے۔''

اخبار کے کالم نگار علی بن تمیم نے '' نقاب کے ذریعے جرم یا نقاب ایک جرم '' کے عنوان سے لکھے گئے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ اب یہ وقت ہے کہ اس ایشو کا جائزہ لیا جائے اور ابو ظہبی میں ہونے والے اس گھناونے جرم کے بعد نقاب کے معاملے کو زیر بحث لایا جائے۔''

ایک اور اخبار ''امارات الیوم '' کے کالم نگار سمیع الریامی نے اپنے کالم '' نقاب، انتہا پسندی اور تحفظ و اعتدال '' میں لکھا ہے '' صرف امارات نہیں دوسرے مسلم ممالک میں بھی انتہا پسند عناصر نقاب کی وجہ سے اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں۔''

تاہم مقامی اخبارات نے اس اہم اور حساس معاملے پر احتیاط کے ساتھ رائے زنی کی ہے۔ جبکہ مغربی میڈیا نے اس بارے میں کہا ہے کہ امکانی طور پر دہشت گردی نے ہی یہ کھیل کھیلا ہے۔ واضح رہے امریکی سکول ٹیچر خاتون کو ابوظہبی میں قائم ایک بوتیک میں پیر کے روز ہلاک کیا گیا تھا۔ جس نے ہر طرف سوگواری کا محول پیدا کیا۔

اس واقعے سے ایک ہفتہ پہلے امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا تھا کہ ایک جہادی ویب سائٹ پر امریکی سکول کی ٹیچرز کو نشانہ بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔