.

فرانسیسی صدر کی تصویر سیاسی حلقوں میں مذاق بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند اطالوی رہنما سلویو برلسکونی کی طرح عالمی دوروں کے دوران کہیں نہ کہیں کوئی ایسی حرکت ضرور کرتے ہیں جس سے وہ سماجی، سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں موضوع سخن بن جاتے ہیں۔

العربیہ ڈات نیٹ کے مطابق فرانسیسی صدر کی ایک تازہ تصویر ان دنوں فرانسیسی سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ یہ تصویر وسطی ایشیائی ملک قزاقستان کے حالیہ دورے کے دوران ان کے ہم منصب میزبان نور سلطان نظر بایوف کے ہمراہ لی گئی جس میں قازق صدر نے تو روایتی مغربی ٹائی کوٹ پہن رکھا ہے جبکہ ان کے پہلو میں کھڑے اولاند مقامی گرم کوٹ اور ہیٹ پہنے ایسے لگ رہے ہیں جیسے وہ کسی برفانی علاقے کے سفر کی تیاری میں ہوں۔ یہ لباس انہیں قزاقستانی صدر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ صدر فرانسو اولاند نے گذشتہ جمعہ کو دارالحکومت آستانہ میں قزاقستانی صدر سے ملاقات کی تھی۔

ان کی یہ تصویر پہلے تو قزاقستان کے محکمہ اطلاعات کے انٹسا گرام اکاونٹ پر جاری کی گئی تھی۔ وہاں سے فرانسیسی اخبارات نے اسے خوب اچھالا۔ اخبار ’’لو جرنل ڈو ڈیمانش‘‘ نے تصویر ان الفاظ میں سرخی جمائی’’ اولاند قزاقستانی کوٹ میں ۔۔۔۔ الیزیہ پیلس غصے میں’’۔ اخبار لکھتا ہے کہ صدر اولاند کو چاہیے تھا کہ وہ قزاقستان میں ان کے کسی مخصوص لباس کی نمائش کے بجائے اپنی قومی لباس کی نمائش کرتے۔

فرانس کی دائیں بازو کی ایک شدت پسند جماعت ’’الائنس فار پیپلز موومنٹ‘‘ نے اس تصویر پر صدر اولاند کا خوب مذاق اڑایا، تاہم ان کے دفاع میں بھی لکھنے اور بولنے والوں کی کمی نہیں تھی۔

حامیوں کی جانب سے امریکی صدر باراک اوباما، روس کے ولادی میر پوتن اور سابق فرانسیسی صدر نیکولا سارکوزی کے نام بہ طور مثال پیش کیے گئے ہیں اور کہا گیا کہ وہ بھی دوسرے ملکوں کے دوروں کے دوران میزبان ملک کے قومی لباس زیب تن کرتے رہے ہیں۔ فرانسو اولاند نے اگر قزاقستان میں مقامی ہیٹ اور کوٹ پہن لیا تو کیا ہوا!