شامی گروپوں سے تعلق پر11 افراد کو جیل کی سزائیں
متحدہ عرب امارات کی ایک سکیورٹی عدالت نے عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے وابستہ ایک گروپ النصرۃ محاذ اور شام میں برسرپیکار باغی گروپ احرارالشام سے تعلق کے الزام میں گیارہ افراد کو قصور وار قرار دے کر تین سال سے عمر قید تک جیل کی سزائیں سنائی ہیں اور ان پر بھاری جرمانہ عاید کیا ہے۔
یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی اطلاع کے مطابق دارالحکومت ابوظبی میں وفاقی عدالت عظمیٰ میں قائم اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے ان گیارہ مدعا علیہان کو مختلف الزامات میں قصور وار قرار دیا ہے۔ان پر النصرۃ محاذ اور احرارالشام کی یوای اے میں شاخیں قائم کرنے اور ان میں شمولیت اور بیرون ملک دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کے الزامات پر فرد جرم عاید کی گئی تھی۔
عدالت میں چار مدعا علیہان کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا ہے اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔یہ چاروں اماراتی شہری ہیں اور ان کے نام حمدان حسن مراد عیسیٰ ،اسماعیل علی محمد حسن ،عبداللہ حسن محمد آل بلوشی اورعبدالحکیم نوران ناصر غلام ہیں۔عدالت نے سات دوسرے ملزموں کو قصوروار قرار دے کر تین سے پندرہ سال تک قید کی سزا سنائی ہے۔
ان میں چھے غیر ملکی ہیں۔ان میں سے چار کے پاس جزیرہ کومروس کے پاسپورٹس تھے اور دو شامی ہیں۔انھیں جیل کی سزا پوری ہونے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔عدالت نے چار مدعاعلیہان کو دہشت گردی سے متعلق الزامات میں ناکافی شواہد کی بنا پر بری کردیا ہے۔
عدالت نے دہشت گردی سے متعلق اس مقدمے میں پہلے مدعاعلیہ محمد عصمت محمد شاکر عز کو پندرہ سال قید اور دس لاکھ درہم جرمانے کی سزا سنائی ہے۔اس کے علاوہ اس کی ویب سائٹ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔اس ملزم کی عمر چھتیس سال ہے اور اس کا تعلق شام سے ہے۔
دوسرے ملزم ثمر محمود غطاس کا تعلق بھی شام سے ہے،اس کو تین سال کے لیے جیل بھِیجا گیا ہے۔تیسرے مدعاعلیہ عبداللہ محمد عبداللہ آل بلوشی کا تعلق کومروس جزیرے سے ہے۔عدالت نے اس کو پندرہ سال قید کا حکم دیا ہے۔
اماراتی شہری اور کومروس جزیرے کے پاسپورٹ کے حامل مروان عیسیٰ عبدالرحمان آل بلوشی اور اماراتی شہری عاید عادل محمد آل بلوشی کو دھماکا خیز مواد رکھنے اور ماحول کو آلودہ کرنے کے الزام میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔عاید پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں پندرہ ہزار درہم جرمانہ بھی عاید کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے نومبر میں مصر کی قدیم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون اور القاعدہ سمیت اسی سے زیادہ تنظیموں اور جماعتوں کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔یو اے ای کی حکومت نے قبل ازیں اگست میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے رقوم کی ترسیل کی روک تھام ،انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ پر قابو پانے کے لیے اپنے ہاں نافذالعمل انسداد دہشت گردی کے قوانین کو سخت کردیا تھا۔
اماراتی حکومت اور عدالتوں نے اسلام پسندوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور گذشتہ سال سے اب تک اخوان المسلمون، القاعدہ یا ان سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں بیسیوں افراد کو لمبی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ایک ماہر گبریلہ کنال نے فروری میں یواے ای کے دورے کے موقع پر اس کے عدالتی نظام کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔ یو اے ای حکومت نے ہی انھیں عدالتی نظام کا جائزہ لینے کے لیے اس دورے کی دعوت دی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اس خلیجی ریاست کی عدلیہ انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے۔تاہم یو اے ای کے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ گبریلہ کنال کی سفارشات پر غور کیا جائے گا لیکن ان صاحب کا موقف تھا کہ ان کی عدلیہ آزاد ہے اور ملکی آئین میں اس کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔
-
یو اے ای :امریکی خاتون کی مشتبہ قاتلہ گرفتار
نقاب پوش کے قبضے سے بڑی تعداد میں چاقو اور بم بنانے کا سامان برآمد
بين الاقوامى -
علامہ قرضاوی: بلیک لسٹ قرار دینے کا اقدام مسترد
یو اے ای کی جانب سے مسلم یونین کو دہشت گرد قرار دینے پر اظہار حیرت
بين الاقوامى -
یو اے ای میں اخوان، داعش، النصرہ محاذ دہشت گرد قرار
متحدہ عرب امارات نے ہفتے کے روز ایک سرکاری حکمنامہ جاری کیا ہے جس کے تحت متعدد عرب ...
مشرق وسطی -
یو اے ای :طالبات کی قومی سروس میں شمولیت
بڑی تعداد نے اختیاری خدمات کے لیے ناموں کا اندراج کرادیا
بين الاقوامى -
یو اے ای:ترک صدر کی مصر مخالف تقریر کی مذمت
السیسی پر تنقید،مصری وزیرخارجہ کی ترک ہم منصب سے ملاقات منسوخ
بين الاقوامى -
یو ای اے:انسداد دہشت گردی قوانین میں سختی
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت نے پہلے سے نافذالعمل انسداد دہشت گردی کے ...
مشرق وسطی