’حدیدہ‘ میں حوثیوں کا نیا گورنر مقرر، مخالفین پر حملے
یمن میں اہل تشیع مسلک کے شدت پسند گروپ نے الحدیدہ گورنری کے گورنر صخر الوجیہ کی سبکدوشی کے بعد حسن الحمد الھیج کو نیا گورنر مقرر کیا ہے۔ حسن الوجیہ حوثی ملیشیا کی سیاسی امور میں مداخلت کی وجہ سے دو روز پیشتر عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
خیال رہے کہ یمن کی الحدیدہ گورنری کے حوثی گورنر کی تبدیلی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں عمران گورنری میں بھی حوثیوں نے اپنا ایک نیا گورنر لگوایا تھا۔
درایں اثناء مشرقی تعز میں حوثیوں کےخلاف ہونے والے ایک احتجاجی جلوس پر حوثی شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے تاہم اس کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں مل سکی۔
ادھر البیضاء گورنری کے قبائل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی ہر ممکن مدد جاری رکھیں گے۔ قبائل کی جانب سے جاری ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں اور حوثی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور آپریشن کرے اور ریاست میں اپنی عمل داری قائم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے۔ قبائل حکومتی رٹ قائم کرنے میں بھرپور مدد کریں گے۔
اس کے برعکس ارحب کے قبائل نے حوثی باغیوں کے خلاف مسلح جدو جہد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ارحب کے قبائل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف حکومت کی کسی بھی مہم جوئی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ارحب کےقبائل کی جانب سے یہ موقف حکومت کی حوثیوں کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر ایک رد عمل ہے جس کا مقصد حکومت پر حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے مزید دبائو ڈالنا ہے۔
ادھر صنعاء کے ایوان صدر کے باہر بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین صدر عبد ربہ منصور ھادی سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک بھرمیں حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ مظاہرین نے دارالحکومت صنعاء اور دوسرے شہروں سے مسلح گروپوں کو دو ہفتے کے اندر اندر نکال باہر کرنے کا بھی الٹی میٹم دیا۔