مساجد کے لائوڈ اسپیکروں سے حادثات کی پیشگی اطلاع کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

امریکا میں زیرتعلیم ایک سعودی طالب علم نے تجویز دی ہے کہ مملکت میں موجود مساجد کے لائوڈ اسپیکروں کو صرف اذان اورعبادت کے دیگر لوازمات تک محدود رکھنے کے بجائے ان لائوڈ اسپیکرں کی مدد سے شہریوں کو حادثات کی پیشگی وارننگ کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔

امریکی ریاست اوھایو کی اکرون یونیورسٹی کے طالب علم حسان الجھنی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر محکمہ موسمیات کے اعلانات نشریاتی اداروں کے ساتھ ساتھ مساجد کے لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے کیے جائیں تو سیلاب، آندھی اور طوفان سمیت کسی بھی قدرتی آفت سے ہونے والے غیرمعمولی جانی اور مالی نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔

سعودی طالب علم کا کہنا ہے کہ سنہ 2009ء میں جدہ اور 2011ء میں سعودی عرب میں آنے والے تباہ کن سیلابوں میں جانی نقصان کی ایک بڑی وجہ شہریوں کو بروقت خطرات کے بارے میں آگاہی نہ ہونا بھی اہم سبب تھا۔ جو وارننگ محکمہ موسمیات کی جانب سے ریڈیو اور ٹی وی پرجاری کی گئی تھی وہ مساجد کے لائوڈ اسپیکروں سے کی جاتی تو زیادہ موثر ثابت ہوتی۔

سعودی طالب علم کا کہنا تھا کہ دور نبوت اور خلافت راشدہ کے زمانے میں مساجد میں صرف اذان ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ مختلف حوادث کے بارے میں اعلانات بھی مساجد ہی کے ذریعے کیے جاتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں