.

سعودی عرب:پیرس میں دہشت گردی کے بزدلانہ حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بدھ کو ایک اخبار کے دفتر پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔تین مسلح افراد کے اس حملے میں دس صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے ایک حکومتی عہدے دار کا بیان نقل کیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''سعودی عرب دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتا ہے۔اسلام اور دوسرے مذاہب اس طرح کے فعل کو مسترد کرتے ہیں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''سعودی عرب حملے میں مارے گئے افراد کے خاندانوں، جمہوریہ فرانس کی حکومت اور عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کا خواہش مند ہے''۔

عرب لیگ اور الازہر کی مذمت

بائیس عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ اور قاہرہ میں قائم مسلمانوں کی تاریخی دانش گاہ الازہر نے بھی پیرس میں نقاب پوش افراد کی جانب سے مزاحیہ ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو کے دفاتر پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے ایک بیان میں اخبار کے دفتر پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق:''جامعہ الازہر نے حملے کو مجرمانہ کارروائی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اسلام اس طرح کے تشدد کی کسی بھی شکل کی مذمت کرتا ہے''۔

فرانس کی مسلم کونسل نے فائرنگ کے اس واقعے کے فوری بعد اس کی مذمت کی ہے اور اس کو بربریت قراردیتے ہوئے پریس کی آزادی اور جمہوریت پر حملہ قراردیا ہے۔مسلم کونسل فرانس کی مسلم کمیونٹی کی نمائندہ ہے۔اس نے مسلمانوں کو امن سے رہنے کی تلقین کی ہے اور ان پر زوردیا ہے کہ وہ انتہاپسندانہ تعبیروں سے گریز کریں۔

بیان کے مطابق:''دہشت گرد گروپوں کے پاگل پن کی وجہ سے بین الاقوامی ماحول کشیدہ بن چکا ہے اور وہ غلط طور پر خود کو اسلام کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ہم تمام لوگوں پر زوردیتے ہیں کہ وہ اشتعال انگیزی سے بچنے کے لیے جمہوریہ کی اقدار اور جمہوریت سے جڑے رہیں''۔