فرانس میں سزائے موت بحال کرنے کی حمایت شروع

خاتون سیاسی رہنما نے اسے قانونی ہتھیار کہہ کر حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس میں توہین آمیز کارٹون شائع کرنے والے میگزین پر حملے کے ایک روز بعد فرانس فرنٹ نیشنل کی لیڈر میرین لی پین نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ منتخب ہو گئیں تو وہ ملک میں سزائے موت بحال کرانے کے لیے ریفرنڈم کی تجویز دیں گی۔

اس خاتون رہنما نے ٹی وی چینل فرانس ٹو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا '' میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ سزائے موت دینے کا قانون بھی ہمارے قانونی ہتھیاروں کے اسلحہ خانہ میں ہونا چاہیے۔''

ان کا کہنا تھا میں نے پہلے بھی ہمیشہ کہا ہے کہ میں اہل فرانس کو اس موضوع پر ریفرنڈم کرانے کے لیے کہوں گی ۔'' خاتون رہنما نے واضح کیا سزائے موت فرانس میں قرون وسطی سے انیس سو ستتر تک نافذالعمل رہی ہے۔ کیونکہ مجرموں کے سر کاٹنے کا یہی ایک قانونی طریقہ ہے۔ ''

واضح رہے فرانس میں جس آخری شخص کو پھانسی دی گئی تھی وہ تیونس سے تعلق رکھنے والا حمیدہ جندوبی تھا۔ اسے ستمبر انیس ستہتر میں سزائے موت دی گئی تھی۔ بعدا زاں نو اکتوبر انیس سو اکیاسی کو سزائے موت پر قاناً پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں میرین لی پین نے کہا وہ فرانس میں انتہا پسند اسلام کے پھیلنے کے بارے میں صدر فرانسو اولاندے سے بھی بات کریں۔ کیونکہ اس انتہا پسندی کی وجہ سے دنیا میں روزانہ ہزاروں انسانوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

خیال رہے اسلام کی توہین پر مبنی کارٹون شائع کرنے کی شہرت رکھنے والے فرانسیسی جریدے پر نقاب پوش حملہ آوروں نے حملہ کر کے متعدد صحافیوں کو جریدے کے دفتر میں ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پورے فرانس میں مسلمانوں کے بارے میں سخت ماحول کی علامات نظر آ رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں