.

پی ایل او کا امریکا میں اسرائیل میں حملوں پر ٹرائل

فائرنگ اور بم دھماکوں کے متاثرہ صہیونیوں کا ایک ارب ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں ایک عشرے سے زیادہ عرصے قبل فائرنگ اور بم دھماکوں کے واقعات کے الزام میں نیویارک میں تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں ان سے متاثرین کو قریباً ایک ارب ڈالرز کی رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی جیوری 13 جنوری سے اس سول مقدمے کی سماعت شروع کررہی ہے اور توقع ہے کہ یہ ٹرائل بارہ ہفتے تک جاری رہے گا۔اسرائیلیوں نے فلسطینی قیادت کے خلاف یہ مقدمہ فلسطین کی جانب سے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کی رکنیت اور صہیونی فوج کے خلاف غزہ جنگ کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست کے ردعمل میں دائر کیا ہے۔

یہ کیس سنہ 2001ء سے 2004ء کے درمیان فائرنگ اور بم دھماکوں کے سات واقعات سے متعلق ہے۔ان میں تینتیس افراد ہلاک اور کم سے کم ساڑھے چار سو زخمی ہوگئے تھے۔متاثرین اور ان کے خاندانوں نے اپنے دعوے میں کہا ہے کہ مدعاعلیہان نے ان حملوں کے لیے حماس اور الاقصیٰ شہداء بریگیڈ کی مالی معاونت اور عملی مدد کی تھی۔امریکی حکومت نے ان دونوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے رکھا ہے۔

پی ایل او اور فلسطینی اتھارٹی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اس الزام کو بھی مسترد کردیا ہے کہ اس نے امریکا کے انسدادی دہشت گردی ایکٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔

اس کیس میں مدعاعلیہان کی پیروی کرنے والے قانونی فرم ملر اینڈ شیوالئیر کے پارٹنر مارک روخن اور درخواست گزاروں کی نمائندگی کرنے والی فرم آرنلڈ اینڈ پورٹر کے کینٹ یالووٹز نے اس ممکنہ عدالتی کارروائی کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

نیویارک کے جنوبی ضلع میں امریکا کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں سوکولو بنام تنظیم آزادی فلسطین کے نام سے دائر اس مقدمے کا نمبر 04-00397 ہے۔نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج جارج ڈینیلز اس ٹرائل کی نگرانی کریں گے۔

گذشتہ ماہ جج ڈینیلز نے پی ایل او کی اس مقدمے کو خارج کرنے کے لیے دائر کردہ درخواست مسترد کردی تھی۔پی ایل او نے اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ عدالت کو یہ مقدمہ سننے کا اختیار نہیں ہے۔واضح رہے کہ ستمبر میں بروکلین میں ایک وفاقی جیوری نے عرب بنک کو انسداد دہشت گردی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا۔اس بنک نے مبینہ طور پر حماس کو مادی سپورٹ مہیا کی تھی۔

امریکا کے قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج صاحب شاید بہت جلدی میں ہیں اور اگر ان کا فیصلہ پی ایل او کے خلاف آتا ہے تو وہ اعلیٰ عدالتوں میں نظرثانی کی اپیل دائر کرسکتی ہے اور ان کے فیصلے ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں یا وہ اتنی بڑی رقم ادا کرنے سے ہی انکار کرسکتی ہے۔

واشنگٹن میں قائم قانونی فرم برلینر کورکوران اینڈ رو سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی قانون کے ماہر بروس زاگارس کا کہنا ہے کہ ''اس مقدمے کے سیاسی مضمرات انتہائی پیچیدہ ہیں''۔

مسٹر زاگارس کے بہ قول:''ماضی میں اسی طرح کے کیسوں میں درخواست گزاروں کو ہرجانے کی رقم وصول کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کرنا پڑی تھی کیونکہ مدعاعلیہان کے امریکا میں چند ایک اثاثے تھے یا بالکل بھی اثاثے نہیں تھے اور بیرون ممالک میں امریکا کے اس طرح کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا ہے''۔

تاہم درخواست گاروں کا اپنے تئیں دعویٰ ہے کہ فلسطینیوں کے پاس اپنے خلاف فیصلے صورت میں ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کے لیے بہت زیادہ رقم موجود ہے حالانکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے ہیگ میں آئی سی سی سے رجوع کرنے کے ردعمل میں اس کو ہر ماہ ادا کی جانے والی محصولات کی مد میں رقم روک لی ہے جس کے بعد فلسطینی حکومت مالی مشکلات سے دوچار ہوچکی ہے۔