لیبیا میں انصارالشریعہ کے لیڈر کی موت
لیبیا میں اسلامی جنگجو گروپ انصارالشریعہ کے لیڈر محمد الظہاوی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔وہ چند ماہ قبل سرکاری فوج کے ساتھ لڑائی میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔
محمد الظہاوی نے بن غازی میں انصارالشریعہ بریگیڈ قائم کی تھی اور اس جنگجو گروپ نے 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خلاف مسلح تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس تحریک کے نتیجے ہی میں قذافی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
ظہاوی کے خاندان نے بتایا ہے کہ وہ ستمبر میں لیبی فوج کے دستوں کے ساتھ لڑائی میں شدید زخمی ہوگئے تھے اور وہ تب سے اسپتال میں زیر علاج تھے۔لیبی فوج کے ایک کمانڈر فضل الحاسی نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔تاہم انصارالشریعہ نے فوری طور پر ان کی موت سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یادرہے کہ امریکا نے ستمبر 2012ء میں انصارالشریعہ پر بن غازی میں اپنے قونصل خانے پر حملے کا الزام عاید کیا تھا۔اس حملے میں لیبیا میں متعین امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
بن غازی میں سابق لیبی جنرل خلیفہ حفتر کے وفادار فوجی اور انصارالشریعہ کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے لڑائی جاری ہے۔خلیفہ حفتر کو لیبیا کی سرکاری فوج کی مدد بھی حاصل ہے اور انھوں نے انصارالشریعہ سے ملک کے اس دوسرے بڑے شہر کے بیشتر علاقے خالی کرالیے ہیں۔تاہم ان کے درمیان جنیوا میں گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات کے باوجود خونریز جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
-
بن غازی بندرگاہ خالی کردی جائے: لیبی فوج
فریقین کے درمیان لڑائی سے کم از کم 230 افراد ہلاک
مشرق وسطی -
بن غازی :لیبی فوج کا چار بیرکوں پر دوبارہ قبضہ
انصارالشریعہ کے جنگجو پسپا ہوکر بندر گاہ کی جانب چلے گئے
بين الاقوامى -
بن غازی میں جھڑپیں ، 12 افراد ہلاک
اسلامی جنگجوؤں کے مقابلے میں فوج کی پیش قدمی کا دعویٰ
بين الاقوامى -
لیبیا: مسلح ملیشیا ہتھیار ڈال دے، جنرل حفتر کا مطالبہ
دنیا بھر کے دہشت گرد بن غازی میں جمع ہیں، ترجمان جنرل حفتر
مشرق وسطی -
لیبیا: بن غازی میں تصادم سات ہلاک 15 زخمی
مرنے والوں میں پانچ فوجی ہیں
مشرق وسطی -
طرابلس پولیس نے جنرل خلیفہ حفتر کی حمایت کردی
انصارالشریعہ کا مشرقی شہر بن غازی میں کسی بھی گروہ کی دراندازی روکنے کا عزم
بين الاقوامى