حوثیوں نے یرغمال یمنی اعلی عہدیدار رہا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں نے مصالحتی کوششوں کے بعد ایوان صدر کے پرنسپل سیکٹری احمد عوض بن مبارک کو رہا کر دیا ہے۔ انہیں دس روز قبل صنعاء میں ان کی رہائش گاہ سے یرغمال لیا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصالحت کار حسام الشریحی نے میڈیا کو بتایا کہ حوثیوں نے احمد عوض بن مبارک کو مذاکراتی ٹیم کے حوالے کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ احمد بن مبارک کا آبائی تعلق جنوبی یمن کے شورش زدہ علاقے شبوہ سے ہے اور وہ شبوہ گورنری میں ماضی میں اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔

درایں اثنا یمن میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے بن مبارک کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں‌نے کہا کہ بن مبارک کی رہائی سے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی میں کمی آئے گی اور متحارب فریقین کےدرمیان بات چیت کی فضاء سازگار ہو گی۔ انہوں ‌نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ ملک کو بچانے کے لیے بات چیت کی راہ اپنائیں اور بندوق کا استعمال ترک کر دیں۔

احمد عوض بن مبارک کی رہائی کے ساتھ ساتھ حوثی شدت پسندوں کا صنعاء میں قبضہ برقرار ہے۔ گذشتہ روز صنعاء میں حوثیوں کے خلاف ایک بڑا جلوس بھی نکالا گیا، لیکن حوثی شدت پسندوں کی جانب سے مظاہرین کو تحریر اسکوائر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

ادھر جنوبی یمن کے ارکان پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ صنعاء میں حوثیوں کی مسلح بغاوت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ انہوں ‌نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ حکومتی دفاتر پر قبضہ چھوڑ دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں