.

افغانستان:جنازے پر خودکش بم حملہ ،10 ہلاک

کسی گروپ نے صوبہ لغمان میں حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے لغمان میں ایک جنازے کے شرکاء پر خودکش بم حملے کے نتیجے میں دس سے زیادہ افراد ہلاک اور کم سے کم چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبائی حکام کے مطابق لغمان کے علاقے مہترلام میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں پولیس کے ایک کمانڈر سمیت مارے جانے والے چار افراد کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی۔اس دوران حملہ آور بمبار نے جنازے کے شرکاء کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

صوبائی گورنر کے ترجمان سرحدی ژواک نے بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سولہ بتائی ہے اور کہا ہے کہ انتالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ترجمان کے مطابق خودکش بمبار نے ایک اور بم دھماکے میں مارے گئے ایک پولیس کمانڈر سمیت چار افراد کی نمازجنازہ کے دوران حملہ کیا ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس طرح کے حملے طالبان مزاحمت کاروں کا غیر ملکی اور افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف گذشتہ چودہ سال جاری لڑائی میں مخصوص جنگی حربہ ہیں اور وہ آئے دن جنوبی اور مشرقی صوبوں میں غیرملکی اور افغان فورسز پرخودکش حملے یا بم دھماکے کرتے رہتے ہیں۔

طالبان مزاحمت کاروں نے نیٹو کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے ہزاروں کی تعداد میں افغانستان سے انخلاء کے باوجود اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس وقت امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے قریباً سترہ ہزار فوجی جنگ زدہ ملک میں موجود ہیں۔طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک میں کسی ایک غیرملکی فوجی کی موجودگی تک اپنے حملے جاری رکھیں گے۔

افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی نے ملک میں قیام امن کے لیے طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی لیکن انھوں نے ابھی تک اس کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔افغانستان اس وقت بد امنی کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام سے بھی دوچار ہے اور بدھ کے روز افغان پارلیمان نے صدر اشرف غنی کی جانب سے قومی اتحاد کی نئی کابینہ میں شامل کیے جانے والے وزراء میں سے بیشتر کو مسترد کردیا ہے اور صرف چند ایک وزراء ہی کی منظوری دی ہے۔