"عماد مغنیہ کا قتل سی آئی اے اور موساد کی کارروائی تھی"
لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے کمانڈر عِماد مغنیہ کی 2008ء میں ایک کار بم دھماکے میں ہونے والی ہلاکت کے پیچھے امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔ اس امر کا انکشاف بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی حالیہ اشاعت میں کیا ہے۔
اخبار نے سابق انٹیلیجنس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایجنسیوں نے باہمی اشتراک سے عِماد مغنیہ کو نشانہ بنایا تھا۔ مغنیہ 12 فروری 2008ء کو شامی دارالحکومت دمشق میں ایک ہوٹل کے باہر ہونے والے ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اخبار کے مطابق سی آئی اے نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
یاد رہے کہ اٹھارہ جنوری کوعماد مغنیہ کے بیٹے جہاد مغنیہ کو بھی ایک ایرانی جنرل اور حزب اللہ کے چھے جنگجووں سمیت اسرائیل نے ایک میزائل حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔
-
حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی بڑھانے سے گریزاں!
تنظیم نے ہمیں یونفیل کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے: اسرائیل کا دعوی
مشرق وسطی -
اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے دو جنگجوؤں کی ہلاکت
اسرائیلی فوج کے اسی اختتام ہفتہ پر شام میں ایک فضائی حملے میں لبنان کی شیعہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی حملے میں ایرانی جنرل کی ہلاکت کی تصدیق
شامی علاقے پر حملے میں حزب اللہ کے دو مرکزی کمانڈروں سمیت 6 ارکان کی ہلاکت
مشرق وسطی -
حزب اللہ اسرائیل سے نئی جنگ نہیں چاہتی: حسن نصراللہ
صہیونی فوج کو انتباہ پر اکتفا، لیکن شیعہ ملیشیا جنگ سے خوف زدہ نہیں
مشرق وسطی -
یمن: حوثی گروپ 'انصار اللہ' حزب اللہ کا نیا ایڈیشن
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خصوصی ایلچی علی شیرازی نے دعویٰ ...
بين الاقوامى -
حزب اللہ میں اسرائیلی جاسوس بھرتی کیے جانے کا انکشاف
حسن نصراللہ نے بھی اعتراف کر لیا
مشرق وسطی