شاہ عبداللہ کی وفات پر متضاد ایرانی موقف
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزکی وفات پرجہاں ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی جانب سے تعزیت کی گئی اور وزیرخارجہ جواد ظریف نے خود ریاض پہنچ کر شاہ عبداللہ کی وفات پرافسوس کا اظہارکیا۔ وہیں ایران کے کئی سرکردہ مذہبی اور سیاسی رہ نمائشوں کی جانب سے خادم حرمین شریفین کے انتقال پر افسوس کے بجائے خوشی کا اظہار کیا گیا۔ ایرانی سرکارمیں شاہ عبداللہ کی رحلت کے حوالے سے متضاد بیانات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
العربیہ ڈاٹنیٹ کے مطابق ایران کی دستوری کونسل کے چیئرمین اور جامع تہران کے امام وخطیب آیت اللہ جنتی اپنے خطبہ میں شاہ عبداللہ کی وفات پر خوشی کا اظہارکیا۔ ان کے اس طرزعمل پرایرانی دانشور ڈاکٹر صادق زیبا کلام نےایک کھلا خط شائع کیا ہے جس ہے میں جس میں اس طرز عمل پر سخت احتجاج کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر کلام کا کہنا ہے کہ آیت اللہ جنتی جیسی شخصیت کو اپنے عہدے اور مقام منصب کا لحاظ رکھتے ہوئے کسی ایسے متنازعہ بیان سے سختی سے گریز کرنا چاہیے جو ان کی اور پوری ایرانی قوم کی بدنامی کا موجب بنے۔ انہوںنے کہا کہ علامہ جنتی صرف اہل تشیع مسلک کے عالم دین ہی نہیں بلکہ وہ ایک اہم حکومتی منصب فائز ہیں۔ انہیں اہنے منصب کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے خطبہ جمعہ میں ایسے الفاظ کا استعمال کیا جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ انہوں نے شاہ عبداللہ کی وفات پر افسوس کے بجائے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ نیز انہوں نے یہ متضاد بیان ایسے وقت میں دیاجب تہران حکومت کی طرف سے شاہ عبداللہ کی وفات پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایرانی دانشور ڈاکٹر زیبا کلام نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصے سے خطے میں شیعہ ۔ سنی اختلافات زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئے ہیں شیعہ سنی اختلافات میں غیرمعمولی اضافہ اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی لڑائیوں کی روک تھام کے لیے علماء کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے شام میں جاری شورش کیجانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو سال سے ہم شیعہ، سنی تصادم کا سامنا کررہے ہیں۔
انہوں نے اپنے کھلے خط میں لکھا ہے کہ ہم نے شیعہ۔ سنی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی تھیں لیکن بعض لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے نتیجے میں ہماری کامیابیوں کو بھی غیرموثر کردیا گیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ شیعہ۔ سنی فساد پھیلانے اور اختلافات کو بڑھ کانے والے بتائیں کہ وہ عالم اسلام کی کیا خدمت کررہے ہیں۔
ایرانی تجزیہ نگار ڈاکٹر زیبا کلام نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز ایک نیک سیرت انسان، صلح جو اور اعتدال پسند رہ نما تھے۔ سعودی عرب ہی نہیں بلکہ عرب دنیا اور مسلمان ممالک میں ان کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس وقت پوری اسلامی دنیا کی جانب سے شاہ عبداللہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایسے میں علامہ جنتی یا کسی دوسرے ایرانی مذہبی رہ نما کی طرف سے ایسی بیان بازی سے گریزکرنا چاہیے جس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں تفرقہ میں مزید اضافہ ہو۔
-
یواین جنرل اسمبلی کا شاہ عبداللہ کو خراجِ عقیدت
دنیا میں قیام امن اور بھوک کے خلاف جنگ میں کردار کی تعریف
بين الاقوامى -
مرحوم شاہ عبداللہ نے مصری صدر کو کیا وصیت کی؟
مصر کے صدر جنرل ریٹائرڈ عبدالفتاح السیسی کا کہنا ہے مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز ...
بين الاقوامى -
شاہ عبداللہ مرحوم کوعالمی رہنماؤں کا خراجِ عقیدت
وہ ایک راست باز، دردمند، امن دوست اور صاحب بصیرت قائد تھے
بين الاقوامى