.

امریکا:1200 شامی جنگجو فوجی تربیت کے لیے ''نشان زد''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شامی حزب اختلاف کے قریباً بارہ سو جنگجوؤں کو فوجی تربیت کے لیے شناخت کے بعد نامزد کر لیا ہے۔انھیں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے خلاف لڑنے کے لیے پینٹاگان کے وضع کردہ ایک پروگرام کے تحت جدید اسلحہ چلانے اور جنگی حربوں کی تربیت دی جائے گی۔

ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے لیے یہ جنگجو جائزہ اور شناخت کے ایک عمل سے گزریں گے اور توقع ہے کہ یہ عمل مارچ سے شام سے باہر مختلف جگہوں پر شروع ہوجائے گا۔اس پروگرام کے تحت ایک سال میں پانچ ہزار سے زیادہ شامی جنگجوؤں کو تربیت دی جائے گی۔ان میں سے قریباً تین ہزار کو 2015ء کے اختتام تک تربیت یافتہ بنایا جاسکتا ہے۔

اس پروگرام کے لیے امریکی حکومت کے ڈیٹا بیس اور علاقائی شراکت داروں کی فراہم کردہ انٹیلی جنس معلومات کو بروئے کار لاتے ہوئے جنگجوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور انتخاب کیا جائےگا۔

ایک اور امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ عسکری تربیت کا اردن میں آغاز کیا جاسکتا ہے۔تاہم پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے شامی جنگجوؤں کی تربیت گاہوں اور میزبان ممالک کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔

جان کربی نے پینٹاگان میں بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ''اس پروگرام میں شرکت کے لیے قریباً بارہ سو افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔انھیں کہاں تربیت دی جائے گی،اس بارے میں فی الوقت میرے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں''۔

امریکا اور ترکی نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ شامی حزب اختلاف کے اعتدال پسند جنگجوؤں کو تربیت دینے اور آلات مہیا کرنے کے لیے بہت جلد ایک سمجھوتے پر دستخط کرنے والے ہیں۔ترکی کو توقع ہے کہ اس پروگرام سے شامی حزب اختلاف کو صدر بشارالاسد کے خلاف لڑائی میں تقویت ملے گی۔تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فوجی تربیتی پروگرام صرف داعش کے خلاف جنگ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔

بعض امریکی عہدے داروں نے خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ شامی جنگجوؤں کو جدید آلات سے آراستہ پک اپ ٹرک،مشین گنیں ،ریڈیو اور گلوبل پوزیشننگ سسٹمز (جی پی ایس) ٹریکر بھی مہیا کیے جائیں گے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی منگل کی اشاعت میں بتایا تھا کہ ''ریڈیوز اور جی پی ایس آلات سے جنگجو فضائی مدد کے لیے بھی رابطہ کر سکیں گے''۔مگر جان کربی کا بالاصرار کہنا تھا کہ اس تربیتی مشن کا مقصد شامی فارورڈ ائیر کنٹرولرز کی تشکیل نہیں ہے۔ البتہ انھوں نے ممکنہ اہداف کی نشان دہی کے لیے ان کے معاون کردار کو تسلیم کیا ہے۔

پینٹاگان نے قبل ازِیں بتایا تھا کہ خصوصی دستوں سمیت چار سو سے زیادہ امریکی فوجی شامی جنگجوؤں کو تربیت دیں گے اور ان کی معاونت کے لیے مزید سیکڑوں فوجی بھیجے جائیں گے۔جان کربی کے تخمینے کے مطابق اس تربیت مشن میں حصہ لینے والے تمام فوجیوں کی تعداد قریباً ایک ہزار ہو گی۔