جان کیری اور جواد ظریف خلیج پاٹنے کے لیے کوشاں

مذاکرات میں بنیادی سوالات کے جواب تلاش نہیں کیے جاسکے:ایرانی نائب وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات میں حساس امور سے متعلق اختلافات کا خاتمہ ایک بڑا سوال ہوگا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق نائب وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں ابھی خلیج اور اختلافات موجود ہیں اور ان میں شریک تمام فریق سنجیدگی اور عزم کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں لیکن ابھی تک بنیادی سوالات کے جواب تلاش نہیں کیے جاسکے ہیں۔

انھوں نے یہ بات جنیوا سے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے جہاں اتوار کی رات امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر توانائی ایرنسٹ مونز نے اپنے ایرانی ہم منصبوں محمد جواد ظریف اور علی اکبر صالحی کے ساتھ تین گھنٹے تک مذاکرات کیے ہیں۔امریکی اور ایرانی عہدے داروں کے درمیان مذاکرات کا یہ نیا دور جمعہ کو شروع ہوا تھا۔

جان کیری کی مذاکرات کے لیے جنیوا آمد سے قبل جواد ظریف نے ایران کے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ درمیانی سطح پر دوطرفہ بات چیت کے دوران اچھی گفتگو ہوئی ہے لیکن ابھی کوئی سمجھوتا طے نہیں پایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''میرے نقطہ نظر سے بنیادی فرق نفسیاتی ہے۔بعض مغربی ممالک اور خاص طور پر امریکا پابندیوں کو ایک اثاثہ اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک لیور سمجھتے ہیں مگر اس سوچ کی موجودگی تک تنازعے کے حل کے لیے کسی تصفیے تک پہنچنا بہت مشکل ہوگا''۔

امریکی وزیرخارجہ نے اپنی جنیوا آمد اور ایرانی عہدے داروں سے بات چیت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔انھوں نے جواد ظریف کے ساتھ مذاکرات سے قبل امریکی وفد کے ارکان کے ساتھ ملاقات کی تھی۔جنیوا میں ان مذاکرات میں امریکی وزیرتوانائی ایرنسٹ مونز اور ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی اور ایرانی صدر حسن روحانی کے بھائی حسین فریدون پہلی مرتبہ شرکت کررہے ہیں۔

جان کیری نے ہفتے کے روز لندن میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرنسٹ مونز کی ایران کے ساتھ ان تازہ مذاکرات میں موجودگی ان کی فنی نوعیت کے پیش نظر ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی بات کا کوئی فیصلہ ہونے جارہا ہے کیونکہ ابھی فاصلہ موجود ہے اور اس کو طے کیا جانا ہے۔

ایران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر تنازعے کو طے کرنے کی غرض سے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کررہا ہے اور یہ مذاکرات اب اہم مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔تاہم ان دونوں فریقوں میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بعض حساس ایشوز اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر عاید کردہ پابندیوں کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں