.

یاہو کا ڈیموکریٹ سینیٹرز سے ملنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ڈیموکریٹ امریکی سینیٹرز سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹرز نے نیتن یاہو کے پیش آئندہ دورہ امریکا کے موقع پر ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔

سخت گیر اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی سینیٹر رچرڈ ڈربن اور ڈیان فائنسٹائن کے نام جوابی خط میں کہا ہے "ڈیموکریٹ سینیٹرز کی مجھ سے ملنے کی خواہش قابل احترام ہے لیکن میری رائے میں اس وقت ان سے ملاقات میرے دورے سے متعلق مزید غلط فہمیاں جنم لے سکتی ہیں۔"

سینئر ڈیموکریٹ سینیٹرز ڈربن اور فائنسٹائن نے نیتن یاہو سے ساتھ بند کمرے میں ملاقات کی تحریری درخواست میں خبردار کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو بے جا سیاسی طرفداری کا عنوان بنانے کے دیرپا مضمرات ہوں گے۔

ریپبلکن سینیٹرز نے وائٹ ہائوس یا کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان سے مشاورت کے بغیر نیتن یاہو کو امریکی ایوان نمائندگان اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت دے کر سفارتی پروٹوکول کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا تھا۔

نیتن یاہو نے اپنے خط میں کہا کہ وہ پورے دل سے اس بات سے متفق ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات دونوں جماعتوں کی حمایت کی وجہ سے قائم ہیں۔

ان کا کہنا تھا "مجھے مستقبل میں اس اتحاد کی مضبوطی کے لئے دونوں جماعتوں کی حمایت کی اہمیت کا بھی احساس ہے۔"

انہوں نے دونوں جماعتوں کی جانب سے امریکی قانون سازوں سے خطاب کا موقع فراہم کئے جانے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہیں کچھ لوگوں کی جانب سے اس دعوت نامے کو جانبدار سمجھنے پر افسوس ہے۔

نیتن یاہو نے خط میں کہا "میں آُپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میری جانب سے اس دعوت کو قبول کرنے کی واحد وجہ ایران کے ساتھ ممکنہ نیوکلئیر معاہدے پر اسرائیل کے خدشات کو اٹھانا ہے۔"

نتین یاہو نے بتایا کہ انہیں واشنگٹن میں اپنے آئندہ دورے کے دوران دونوں پارٹیوں کے سینیٹرز سے خطاب کرنے پر بہت خوشی ہو گی۔

نیتن یاہو کو اسرائیلی انتخابات سے صرف دو ہفتے قبل اور ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے مذاکرات کے ایک نازک موڑ پر امریکی کانگریس سے خطاب کرنے کے فیصلے پر اسرائیل اور اسرائیل سے باہر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔