.

لیبیا:سابق جنرل خلیفہ حفتر آرمی چیف مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے سابق جنرل خلیفہ حفتر کو آرمی کا کمانڈر انچیف مقرر کردیا ہے۔

لیبیا کے منتخب ایوان نمائندگان (پارلیمان) کے صدر عقیلہ صالح نے گذشتہ ہفتے خلیفہ حفتر کو فوج کا سربراہ مقرر کرنے کی سفارش کی تھی اور ان کی اس سفارش پر آج سوموار کو وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت نے ان کا تقررنامہ جاری کردیا ہے۔

لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اس حکومت کے دفاتر مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں اور پارلیمان بھی ادھر ہی اپنے اجلاس منعقد کررہی ہے جبکہ خلیفہ حفتر کے تحت فورسز کی دارالحکومت طرابلس پر قابض اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔

خلیفہ حفتر نے کچھہ عرصہ قبل مشرقی شہر بن غازی اور دوسرے علاقوں میں اپنے تحت فورسز کو لیبیا کی سرکاری فوج میں ضم کردیا تھا۔اب یہ متحدہ فوج ''لیبیا نیشنل آرمی'' کے نام سے کام کررہی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے بہ قول خلیفہ حفتر کے تقرر سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں لیبیا کی دو متوازی حکومتوں کے درمیان مصالحت کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ دارالحکومت طرابلس پر قابض اسلام پسند دھڑوں پر مشتمل فجرلیبیا ان کی مخالفت کررہی ہے۔طرابلس اور لیبیا کے مغربی علاقوں میں فجر لیبیا کے تحت حکومت کی عمل داری ہے۔

یادرہے کہ خلیفہ حفتر نے سابق مطلق العنان صدر کرنل معمر قذافی کو اقتدار پر قبضے میں مدد دی تھی۔ وہ ترقی کرتے فوج میں جنرل کے عہدے تک پہنچے تھے لیکن وہ ان سے اختلاف کے بعد ملازمت سے دستبردار ہوگئے تھے اور 1980ء کے عشرے میں ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

وہ قذافی دور میں قریباً دوعشرے تک امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے تھے اور 2011ء میں سابق صدر کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کے دنوں میں امریکا سے لیبیا لوٹے تھے۔ان پر پہلے قذافی حکومت نے امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔ان کے مخالف جنگجو گروپ بھی انھیں امریکی ایجنٹ اور سی آئی اے کا آلہ کار قرار دیتے رہے ہیں۔