.

شام میں ہلاک ہونے والے 16 ایرانی، افغان جنگجوئوں کی تدفین

ہلاک ہونے والوں میں پاسداران انقلاب کا کرنل بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے خبر رساں اداروں نے اطلاع دی ہے کہ شام میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں 16 ایرانی اور افغان باشندے ہلاک ہوگئے ہیں جنہیں ایران میں مختلف شہروں میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری خبر میں بتایا گیا ہے کہ 16 ایرانی اور افغان باشندے جنوبی شام کے شہر درعا میں پچھلے منگل کو باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں پاسداران انقلاب کا ایک کرنل بھی شامل ہے جس کی شناخت محمد صاحب کرم اردکانی کے نام سے کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک دوسرے اہم ایرانی سیکیورٹی عہدیدار محمد علی خاوری بھی مرنے والوں میں شامل ہیں جسے تہران کے قریب رامین کے مقام پر سرکاری اعزازو اکرام کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’ابنا‘‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کرنل اردکانی شام کے جنوبی شہر درعا میں باغیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔ ان کے علاوہ درعا میں متعدد افغان جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔ ان میں سے سید حسن حسینی اور حمید یزدانی کی شناخت کی گئی ہے جنہیں تہران میں دفن کیا گیا جبکہ نعیم رضائی اور محمد حسینی کو ہفتے کے روز جنوبی تہران میں کرج کے مقام پر دفنایا گیا۔

دو دیگر افغان شہریوں حسن جعفری اور محمد حسینی کی میتیں شام میں مارے جانے کےبعد ایران منتقل کی گئیں۔ ان میں ایک علی رضا توسلی نام ایک اہم افغان کمانڈر بھی شامل ہے۔ یہ سب افراد شام میں سرگرم ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں صدر بشارالاسد مخالف باغیوں سے لڑائی میں شریک تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شام میں مارے جانے والے افغان جنگجوئوں کا تعلق’’فاطمیون‘‘ نامی ایک عسکری گروپ سے تھا۔ اس گروپ میں افغانستان کے ہزارہ قبیلے کے شیعہ جنگجو شام ہیں جنہیں مبینہ طورپر ایرانی پاسدارن انقلاب کی ایک نجی ملیشیا القدس فورس کی جانب سے باقاعدہ جنگ کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

پچھلے ہفتے ’’فاطمیون‘‘ بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے چھ جنگجو بھی شام میں ہلاک ہوگئے تھے جن کی شناخت رضا بخشی، محمود حکیمی، جاوید یوسفی، نعمت اللہ نجفی، قاسم سادات اور حسین حسینی کےناموں سے کی گئی تھی۔