.

لیبیا: متحارب گروہوں کی یو این مذاکرات سے پہلے باہمی مشاورت

متحدہ حکومت کے رہنمائوں کے ناموں پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لیبیا کے متحارب دھڑوں کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور ان گروہوں کے وفود تنظیمی مشارت کے بعد اگلے ہفتے ایک بار پھر مراکش آئیں گے تاکہ متحدہ حکومت کے قیام پر مزید مذاکرات ہوسکیں۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں مراکش میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد ہے کہ ایک متحدہ حکومت اور دیر پا جنگ بندی کا قیام عمل مین لایا جاسکے تاکہ لیبیا میں جمہوری عمل کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھایا جاسکے۔ لیکن ان دونوں فریقوں میں مذاکرات پر اندرونی خلفشار پایا جاتا ہے اور اسی لئے جھڑپیں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے لیبیا میں مشن کا کہنا ہے کہ فریقین کے وفود بدھ کے روز لیبیا میں اپنے حامیوں کے ساتھ مجوزہ منصوبے کو زیر بحث لانے کے بعد مراکش واپس جائیں گے۔

دونوں اطراف کے نمائندوں نے پہلی بار مراکش میں ایک دوسرے سے مذاکرات کی تھی۔ اس سے پہلے ہونے والے مذاکراتی عمل میں دونوں وفود علیحدگی میں اقوام متحدہ کے ساتھ ملاقات کرتے تھے۔

اقوام متحدہ کے لیبیا میں نمائندے برناردینو لیون نے ملاقات کے بعد کہا "لیبیا کی متحارب جماعتوں کے درمیان ایک ملاقات ہوئی تھی جو کہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھی بلکہ علامتی حیثیت رکھتی تھی مگر علامتی ملاقاتیں اہم ہوتی ہیں۔"

مذاکرات میں شامل ایک نمائندے شریف الوف نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ دونوں پارٹیاں متحدہ حکومت کی سربراہی کرنے والے ممکنہ لیڈران کی لسٹ پر بحث کریں گی۔

لیبی دارالحکومت طرابلس پر مسلح گروپ فجر لیبیا کے قبضے کے بعد سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ لیبی حکومت کے وزیر اعظم عبداللہ الثنی مشرقی لیبیا سے حکومت کا انتظام کار چلا رہے ہیں۔