سابق یمنی صدر پر مفاہمتی مساعی سبوتاژ کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی کے حامی رہ نمائوں نے الزام عاید کیا ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے حوالے سے ہونے والی مساعی کو سبوتاژ کرنے کی مسلسل سازشیں جاری رکھےہوئے ہیں۔ انہوں نے قومی مفاہمتی مذاکرات سعودی عرب منتقل کرنے کی مخالفت کر کے مفاہمتی مساعی کو نقصان پہنچایا ہے۔

خیال رہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں کے ساتھ مل کر ملک کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کی تھی۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ماہ سلامتی کونسل نے سابق یمنی صدر پر پابندیاں عاید کی گئی تھیں لیکن ان پابندیوں کے باوجود وہ ابھی تک ملک کے سیاسی منظر نامے پر نہ صرف موجود ہیں بلکہ سیاسی مفاہمت کے حوالے سے ہونے والی باچیت میں رخنہ اندازی کی کوششیں کررہے ہیں۔ علی عبداللہ صالح اپنے قبائلی اثرو رسوخ کو استعمال کرنے کے ساتھ صدر عبد ربہ منصور ھادی کے خلاف مفاہمت روکنے کے لیے پانی کی طرح پیسہ بھی استعمال کیا ہے۔

تاہم دوسری جانب سابق صدر کے مقرب ذرائع ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح یمن میں بحران کے خاتمے کے لیے خلیجی ممالک کے امن فارمولے سے متفق ہیں۔ انہیں سعودی عرب میں مفاہمتی مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

خیال رہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح نے صنعاء پر حوثیوں کے قبضے کے بعد صدر منصور ھادی کے عدن منتقل ہونے اور وہاں سے حکومتی معاملات چلانے پر انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر منصور ھادی فرار ہو کرعدن میں پناہ گزین ہوئے ہیں۔ انہیں صنعاء نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں