.

جنرل سلیمانی یمن میں موجود ہیں: ایرانی سفارتکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ایلیٹ القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی یمن میں عدم موجودگی کے اعلان کے باوجود تہران کے ایک سینیر سفارت کار صادق خرازی نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل سلیمانی یمن میں حوثیوں کی مدد کو پہنچ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سابق مندوب مسٹر صاق خرازی نے ’’خبر آن لائن‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی تنہا لبنان، عراق، شام، یمن اور افغانستان میں ہماری سرحدوں کےدفاع کے لیے لڑتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل سلیمانی ایران کےقومی اور علاقائی جہاد کے ’آئیکون‘ ہیں۔

ادھر دوسری جانب یمن کے وزیر خارجہ ریاض یاسین کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں حوثی باغیوں کو ایران کی بھرپور مدد حاصل ہے اور وہ پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کی یمن میں موجودگی کی تردید بھی نہیں کرسکتے۔

ایرانی سفارت کار کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی ایک ‘کوہستانی‘ شخصیت ہیں۔ ان کی پرورش شہر سے دور کرمان کی بستیوں میں ہوئی ہے۔ پاسدارن انقلاب میں شمولیت سے قبل وہ پاسیج فورسز کے بھی سرگرم کارکن تھے۔ بعد ازاں ان کی خدمات فوج کے اعلٰی ترین عہدوں کے لیے بھی لی گئیں۔

صادق خرازی کا مزید کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب ایران کی سیاست میں بھی شامل ہیں۔ اگر پاسداران انقلاب ملکی سیاست سے دور رہتے تو آج ہم ملک کھوہ چکے ہوتے۔ یہ پاسداران انقلاب کی جرات اور عزم ہے کہ آج ایران ایک مضبوط ملک بن چکا ہے ورنہ تہران کی سڑکوں پر دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ کے جنگجو پھر رہے ہوتے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں جب سعودی عرب نے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ فوجی آپریشن شروع کیا تو یہ اطلاعات آئی تھیں کہ جنرل قاسم سلیمانی بھی حوثیوں کے ہمراہ لڑ رہے ہیں۔ تاہم بعد ازاں ایرانی حکومت کی جانب سے ان خبروں کی تردید کردی گئی تھی۔ ایرانی حکومت کی تردید کے باوجود ایک سینیر سفارت کار کا دعویٰ ہے کہ جنرل سلیمانی عملا یمن ہی میں موجود ہیں۔