ایران کی جنرل قاسم سلیمانی کی یمن میں موجودگی کی تردید
ایران نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم عسکری تنظیم "القدس فورس" کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی یمن میں حوثیوں کی عسکری معاونت کے لیے صنعاء روانہ ہوگئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے یمن روانہ ہونے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ قبل ازیں ’’بی بی سی‘‘ عربی ویب سائیٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی یمن میں حوثیوں کی مدد کو روانہ ہوگئے ہیں۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کی ایک تازہ تصویر بھی شائع کی گئی ہے جس میں انہیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس بیٹھے ان سے محو گفتگو دکھایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے سپریم لیڈر سے ملاقات کل جمعہ کی شام حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کے یوم وفات کی مناسبت سے منعقدہ ایک مجلس عزاء کے موقع پر کی تھی۔
اُدھر ایرانی خبر رساں ایجنسی’’فارس‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے یمن بھجوائے جانے کی افواہوں کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ایران حوثیوں کی مدد کے لیے اپنی فوج صنعاء میں داخل کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں بھی جنرل قاسم سلیمانی کے یمن میں پہنچنے یا روانہ ہونے کی خبروں کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قاسم سلیمانی اگریمن روانہ ہوگئے ہوتے تو ان کی جمعہ کی شام سپریم لیڈرسے تہران میں ملاقات کیسے ہوسکتی تھی؟۔
خیال رہے کہ ’القدس فورس‘ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی پچھلے کچھ عرصے سے شام اور عراق میں کافی متحرک رہے ہیں۔ انہیں شام کے جنوبی شہر درعا اور عراق کے شمالی شہر تکریت میں ایران نواز شیعہ ملیشیا کے ساتھ متعدد بار میدان جنگ میں دیکھا گیا ہے۔
جنرل قاسم سلیمانی کی یمن میں موجودگی کا تاثر دے کر ایران بہ ظاہر یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ حوثیوں کی پشت پناہی نہیں کررہا لیکن دوسری جانب ایران کے سرکردہ عہدیدار بار بار یمن میں حوثی بغاوت کی کھل کر حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔
یمن میں حوثیوں کی بغاوت اور توسیع پسندی کے خلاف سعودی عرب کی جانب سے آپریشن’’فیصلہ کن طوفان‘‘ شروع ہونے کے بعد ایران کی جانب سےسرکاری سطح پرشدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ ایران کی جانب سے سعودی فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی مسئلے کو بات چیت اور افہام وتفہیم کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
-
’جب بھی ضرورت پڑی، جنرل سلیمانی ہماری مدد کو حاضر ہوں گے‘
عراق کے شمالی شہروں میں دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے خلاف سرگرم ...
مشرق وسطی -
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی داعش مخالف جنگ کے''ماسٹر مائنڈ''
عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے گذشتہ ہفتے جرف السخر ...
ایڈیٹر کی پسند -
ایران: جنرل قاسم سلیمانی کی کرد جنگجووں کے ساتھ تصویر
ایرانی القدس فورس دیگر ملکوں میں کارروائیوں کے لیے مختص ہے
مشرق وسطی