جنرل قاسم سلیمانی ایران کا جنگی ستون

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایران کی حالیہ تین عشروں کی جنگی تاریخ سے یہ بات ہٹ کر ہے کہ کسی فوجی جرنیل کو اس طرح شہرت دی گئی ہو جس طرح ایرانی پاسداران انقلاب پر مشتمل القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو مل رہی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک دلچسپ نظیر ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کو ایران کے ریاستی ذرائع ابلاغ سے ماوراء ایسی میڈیا کوریج دی جاری ہے جو غیر معمولی ہے۔ یہ میڈیا کوریج حتی کہ تہران سے منسلک عرب ذرائع ابلاغ سے بھی مل رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ جرنیل کی زیر کمان فورس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ القدس فورس ایران کے دوسرے ممالک میں سیاسی اور جنگی اہداف میں قائدانہ کردار ادا کرتی ہے۔

ممکن ہے جنرل سلیمانی کی حد سے بڑھی تشہیر اس امر کا فطری نتیجہ ہو کہ مقامی سطح پر ایران کی توسیعات کی ذمہ دار حزب اللہ، حماس اور عراق کی شیعہ ملیشیائیں موجود ہیں۔ یہ بھی حقیقت یہ ہےجنرل سلیمانی کو شام کے حوالے سے ایک نمایاں کردار تفویض کیا گیا تھا۔ اس کردار کو واضح کرتے ہوئے دیا گیا یہ بیان '' اگر اسے ایرانی مدد نہ فراہم ہوئی تو شام کی رجیم ڈھے سکتی ہے'' ایسا مبالغہ آمیز بھی نہ تھا۔

اس بارے میں امریکیوں کا کہنا ہے کہ سلیمانی جس جنگ کی شام میں قیادت کر رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ وہاں بشارالاسد رجیم دو سال سے ڈگمگا رہی تھی، شامی رجیم کی افواج اس وقت تک ہر جگہ محاصرے میں تھیں جب تک ایرانیوں کو کئی جگہوں پر قائدانہ کردار نہ دے دیا گیا اور وہ وہاں آموجود نہ ہوئے۔ اسی طرح شام کے لیے نہ صرف فنڈز کا اہتمام کیا گیا بلکہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے دسیوں ہزار جنگجووں کی شام میں آمد کا اہتمام کیا۔ نیزعراقی عصائب اہل الحق ملیشیا اور افغان شیعہ ملیشیا کی فراہمی یقینی بنائی۔

شام کا منظر نامہ جس میں جنرل سلیمانی قیادت کر رہے ہیں کا پرتو ہی عراق میں ہے۔ اس حوالے سے عراقی بدر آرگنائزیشن کے سربراہ ہادی الامیری کا قول نقل کیا گیا ہے کہ '' اگر ایران کی مدد حاصل نہ ہوتی اور سلیمانی کی موجودگی نہ ہوتی تو حیدر العبادی آج عراق میں موجود نہ ہوتا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ جنرل سلیمانی اپنی افواج کے ساتھ موجود ہیں۔ یمن میں حوثی باغیوں کے ساتھ بھی محدود تعداد موجود ہے۔

امریکی افواج کی ماضی میں عراق میں کمان کرنے والے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے حال ہی میں جنرل سلیمانی کے بارے میں کہا یے '' دوہزار آٹھ میں جنرل سلیمانی نے یہ وااضح انداز میں مجھے بتا دیا تھا کہ وہ عراق کے لیے ایرانی پالیسی کا ذمہ دارہے۔'' اس سے ایرانی پالیسی واضح ہوتی ہے کہ اب جنرل سلیمانی پر انحصار ہے کہ وہ اس جنگ زدہ زون جس میں عراق، شام اور یمن شامل ہیں کا انصرام کیسے کرتے ہیں۔ اس کا انحصار بھی جنرل سلیمانی پر ہے کہ وہ سیاسی بندوبست اور اہداف کے حصول کے لیے کس جماعت کو کس جماعت کے مقابلے میں مدد دیتا ہے اور کسے نہیں۔ نیز اس کے خیال میں کونسی ایسی جماعت ہے جو ایران یا اس کے اتحادیوں کے مقاصد میں مددگار ،مفید کارآمد ہو سکتی ہے۔

پچھلے سال کے دوران ایران نے ایک جارحانہ اور آتشیں پالیسی اختیار کیے رکھی جو اس کی موجود ہ سرحدوں سے بھی ماوراء ہو سکتی ہے۔ ایران اپنی فوجی اور سکیورٹی سے متعلق قیادت کو ایرانی عوام اور ان کے اتحادیوں کے لیے ہیروز کے طور پر مشہور کر رہا ہے۔ جیسا کہ جنرل سلیمانی کو بنا سنوار کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ فوجی قیادت کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کا کام عام طور پر بڑی بڑی جنگوں میں کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ جنگ عظیم دوم کے دوران جرنیلوں کی اہمیت سیاسی قیادت کے برابر ہو گئی تھی۔ ایک مثال برطانوی جرنیل منٹگمری کی تھی۔ اسی طرح جرمنی کے جنرل رومیل اور امریکی جنرل پیٹن کی تھی۔ بلا شبہ ایرانی جرنیل جنرل قاسم علاقے میں لڑی گئی حالیہ ایرانی جنگوں میں سب سے مشہور جرنیل کا درجہ پا چکے ہیں۔

دو سال پہلے نیو یارکر نے جنرل قاسم کے بارے میں رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں انہیں ایران کی بیرون ملک جنگوں کا اہم فرد قرار دیا گیا تھا۔ جنرل سلیمانی کے خلاف امریکی محکمہ خزانہ کی عاید کردہ پابندیوں نے سلیمانی کی تشہیر کو نہیں روکا ہے۔ جو اس بات کی تصدیق ہے۔ اب ماضی کے مقابلے میں یہ ایرانی پالیسی واضح ہو چکی ہے۔ ماضی میں اہم شخصیات کو غیر ملکوں میں سیاسی یا فوجی جنگوں کا حصہ نہیں بتایا جاتا تھا۔

ہمارا خطہ اس وقت جنگی جرنیلوں سے بھرا پڑا ہے۔ خطے کے لوگوں کی قسمت کا انحصار سیاسی قائدین کے مقابلے میں ان پر زیادہ ہے۔ ایک سوال جو بار بار سامنے آرہا ہے وہ یہ ہے کہ '' جنگ کا خاتمہ کیسے ہو گا؟'' میں اس حوالے سے جنرل پٹریاس کی کہی ہوئی بات کا ذکر کروں گا۔'' ہاں حاجی قاسم ہمارا پرانا دوست کی ہے، جب میں نے اس کی تصویر دیکھی تو بہت سے خیالات آئے۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک بات جو میں کروں گا وہ یہ ہے کہ وہ بہت بااثر اور باصلاحیت جرنیل ہے، لیکن یہ ایک طویل کھیل لہذا دیکھنا ہو گا کہ واقعات کسے نمایاں ہوتے ہیں۔''

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں