.

فلسطینی اتھارٹی کو آئی سی سی کی باضابطہ رکنیت مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کو آج یکم اپریل کو نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی بطور ریاست باقاعدہ رُکنیت مل گئی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی آئی سی سی میں شمولیت اختیار کرنے والی ایک سو تئیسویں ریاست ہے۔اس سلسلے میں عدالت کے ہیڈ کوارٹرز میں ایک سادہ تقریب منعقد ہوئی ہے۔اس موقع پر فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی موجود تھے۔آئی سی سی کی چیف پراسیکیوٹر فتوح بن سودہ نیدر لینڈز سے باہر ہونے کی وجہ سے اس تقریب میں شریک نہیں ہوسکی ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی نے اس عالمی عدالت کے قیام سے متعلق روم معاہدے پر جنوری میں دستخط کیے تھے اور اب تین ماہ بعد بدھ کو باضابطہ طور پر اس کو رکنیت دے دی گئی ہے۔اسرائیل آئی سی سی کا رکن ملک نہیں ہے لیکن اس کی فوجی اور سیاسی قیادت کے خلاف اس عدالت میں فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں مقدمات چلا ئے جاسکتے ہیں۔

چیف پراسیکیوٹر فتوح بن سودہ نے جنوری کے وسط میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے گذشتہ سال جون اور اگست کے دوران مسلط کردہ جنگ کی تحقیقات شروع کی تھی۔فلسطینی اتھارٹی نے عالمی عدالت کا دائرہ کار تسلیم کرنے کے بعد اس کے روبرو غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے فلسطینی اتھارٹی کی ایک سو تئیسویں رکن ملک کی حیثیت سے آئی سی سی میں شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اب اس بات کا جائزہ لینا بن سودہ کا کام ہے کہ آیا غزہ جنگ کی مکمل تحقیقات کے لیے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ ان کی ابتدائی تحقیقات مزید اور کتنا عرصہ جاری رہیں گی۔

ہیومن رائٹس واچ میں بین الاقوامی انصاف کی وکیل کے طور پر خدمات انجام دینے والی بلقیس جراح کا کہنا ہے کہ ''آئی سی سی کی پراسیکیوٹر سنگین جرائم سے متعلق الزامات کا جائزہ لیتی ہیں خواہ ان کا مرتکب کوئی بھی ہو اور پھر وہ شواہد کی بنیاد پر ان کے بارے میں مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتی ہیں۔کسی کے بارے میں تحقیقات کا فیصلہ فلسطینیوں یا اسرائیلیوں کے ہاتھ میں نہیں ہے''۔

پراسیکیوشن کی ترجمان فلورینس اولارا کا کہنا ہے کہ ''ابتدائی جائزے کے وقت کی کوئی قید نہیں ہے کہ اس میں مزید اور کتنا وقت لگے گا۔بعض کو مہینوں لگتے ہیں اور بعض کے معاملات سالہا سال جاری رہتے ہیں''۔

واضح رہے کہ فلسطین نے دو جنوری 2015ء کو آئی سی سی کی رُکنیت اور اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کی تھی۔فلسطینی اتھارٹی نے اپنی اس درخواست میں آئی سی سی سے کہا تھا کہ وہ 13 جون 2014ء کے بعد فلسطینی علاقوں میں رونما ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کرے۔

اسرائیلی فوج کی 8 جولائی سے 25 اگست 2014ء تک غزہ کی پٹی کے شہروں اور قصبوں پر تباہ کن بمباری کے نتیجے میں دوہزار دوسو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان میں زیادہ تر عام شہری تھے۔فلسطینی مزاحمت کاروں کے جوابی راکٹ حملوں اور ان کے ساتھ جھڑپوں میں چھیاسٹھ صہیونی فوجی اور پانچ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیل نے آئی سی سی میں اپنے خلاف درخواست کے ردعمل میں فلسطینی اتھارٹی پر اقتصادی پابندیاں لگا دی تھیں اور جنوری میں اس کی جانب سے اکٹھی کی جانے والی محصولات کی مد میں ساڑھے بارہ کروڑ ڈالرز کی قسط ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس کے علاوہ اس نے فلسطینیوں کے خلاف امریکا سمیت مختلف مقامات پر مقدمات چلانے کی بھی دھمکی دی تھی۔

فلسطینی اسرائیل کے خلاف غرب اردن کے علاقے میں یہودی آبادکاروں کے لیے بستیاں تعمیر کرنے پر بھی قانون کارروائی چاہتے ہیں۔بین الاقوامی قانون کےتحت 1967ء کی چھے روزہ جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں پر یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات غیر قانونی ہیں۔عالمی برادری ان تعمیرات کو عشروں پرانے فلسطینی تنازعے کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہے مگر اس مخالفت کے باوجود اسرائیل نے ان علاقوں میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کاروں کو غرب اردن میں فلسطینیوں کی سرزمین پر لابسایا ہے۔