.

بنگلہ دیش جماعت کے ایک اور سینئر رہنما کو پھانسی

قمرالزمان پر سرحدی گاوں میں 120 کسان ہلاک کرنے کا الزام تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل محمد قمرالزمان کو ہفتے کی شب پھانسی دے دی گئی ہے ۔ قمرالزمان نے اپنی سزا کے خلاف ملکی صدر سے رحم کی اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جیل ذرائع اور بنگلہ دیش میڈیا کی رپورٹس کے مطابق قمر الزمان کی سزائے موت پر عمل درآمد ہفتے کی صبح ہونا تھا، تاہم اسے رات تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیشی حکام نے اس التوا کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ 63 سالہ قمرالزمان کو بنگلہ دیشی حکومت کے قائم کردہ ’جنگی جرائم کے ٹریبیونل‘ نے سن 1971ء میں پاکستان سے آزادی کی تحریک کے دوران قتل عام کا مجرم قرار دیا تھا۔

قمرالزمان جماعت اسلامی بنگلادیش کےاسسٹنٹ سکریٹری جنرل اورتیسرے اہم ترین رہنما ہیں جنہیں متنازع فیصلے کی بھینٹ چڑھایاگیا۔انیس سواکہترکی جنگ میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے پر ان کیخلاف جنگی جرائم میں ملوث ہونے کےا لزامات عائد کیے گئے۔اور جنگی جرائم کے ٹریبونل نے انہیں پھانسی کی سزاسنائی۔

ان پر 71ء کی جنگ کے دوران قتل عام، تشدد اور اغواء کی متعدد کارروائیوں ميں مجرم قرار ديا گيا تھا۔ مقدمے کی کارروائی سہاگ پور نامی ايک سرحدی گاؤں سے متعلق تھی، جس ميں قريب 120 نہتے کسانوں کو قتل کر ديا گيا تھا۔ بعد ازاں اس کارروائی کے سبب سہاگ پور کا نام ’’وليج آف وِڈوز‘‘ يا بيواؤں کا ديہات پڑ گيا تھا۔ مقدمے کی سماعت ميں تين بيوہ عورتوں نے قمرالزمان کے خلاف گواہی دی تھی۔

مقدمے کے دوران استغاثہ نے قمرالزمان پر پاکستان نواز البدر ملیشیا کے منتظم ہونے کا الزام بھی عائد کيا تھا۔ اس تنظیم پر الزام تھا کہ يہ نو ماہ پر محیط 71ء کی جنگ کے دوران متعدد مصنفوں، ڈاکٹروں اور پروفيسروں وغيرہ کے قتل ميں ملوث تھی۔

قمر الزمان کی پھانسی پر جماعت اسلامی اور ملک کے دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے شدید اور ممکنہ طور پر پرتشدد رد عمل کے امکان کو سامنے رکھتے ہوئے دارالحکومت ڈھاکا اور ملک کے بڑے شہروں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔