.

ماسکو، تہران کو ایس۔300 میزائل فراہمی پر تیار

امریکا، اسرائیل کا تہران کو جدید ترین میزائل سسٹم کی فراہمی پر اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے ایران کو جدید ترین میزائل نظام فراہم کرنے پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر اعلان کے سامنے آتے ہی وائٹ ہاوس اور اسرائیل نے ماسکو کے متذکرہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکا نے کہا ہے کہ اس اعلان کا اثر ایران پر سے عالمی پابندیاں اٹھانے کے فیصلے پر پڑنے کا امکان ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے سنہ دو ہزار دس میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عائد کی پابندیوں کے تحت روس نے ایران کو ایس 300 ۔میزائلیوں کی فراہمی روک دی تھی۔

روس کے صدر نے ایران اور پانچ مغربی طاقتوں کے درمیان اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کے بعد ایران کو ایس 300۔ میزائلیوں کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔

عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران اور روس کے درمیان اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ایران کو روسی ساخت کے ان جدید ترین میزائلوں کی فروخت کے معاہدے پر اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

اسرائیل اور امریکہ کا خیال تھا کہ یہ میزائل حاصل کرنے سے ایران کو اپنی جوہری تنصیبات کے تحفظ میں بہت مدد ملے گی اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے ان میزائلوں سے اس کا دفاع بہت مضبوط ہو جائے گا۔ ان میزائلوں کی فروخت کے معاہدے کی منسوخی کے بعد ایران نے اربوں ڈالر ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے روس نے میزائلوں کی فروخت کے معاہدے کو رضاکارانہ طور پر روک دیا تھا۔ روس کی وزارتِ دفاع نے انٹر فیکس نیوز ایجنسی سے کہا ہے کہ روس ان میزائلوں کی فروخت کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایران کے نائب وزیر دفاع نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے ان میزائلوں کی فروخت سے روس اور ایران کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔