.

لندن: شامی عالم دین کے قاتل کی گرفتاری کے لیے مسجد پر چھاپہ

الشیخ العروانی کا مرکزی قاتل گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ایک ہفتہ قبل اپنے کار میں مردہ حالت میں پائے گئے عالم دین الشیخ عبدالھادی العروانی کے مبینہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ لندن انسداد دہشت گردی پولیس الشیخ العروانی کے قتل میں ملوث ایک دوسرے شخص کی تلاش میں ہے۔

اس سلسلے میں پولیس نے بدھ کو مغربی لندن میں واقع جامع مسجد "النور" پر چھاپہ بھی مارا۔ الشیخ العروانی سنہ 2011ء سے 2015ء تک اس مسجد میں امام اور خطیب کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ تاہم مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد وہ امامت کے فرائض سے الگ ہوگئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقامی ذرائع ابلاغ نے الشیخ عبدالھادی العروانی کے قتل اور اس کے بعد پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات کو بھرپور کوریج دی ہے۔ علامہ العروانی کے قتل کے بعد یہ شبہ کیا جا رہا تھا کہ قتل میں شامی حکومت کا کوئی ایجنٹ ملوث ہوسکتا ہے کیونکہ الشیخ العروانی شام حکومت کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے مگر لندن پولیس نے مقتول رہ نماء کے بیٹے کی نشاندہی پر پیر کے روز ایک 36 سالہ جمیکا سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخص لیزلی کوپر کو حراست میں لیا اور وہی ان کا قاتل قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات کے مطابق الشیخ العروانی کے قتل کے پس پردہ کوئی سیاسی محرک نہیں بلکہ مسجد النور کی ملکیت کا تنازع تھا۔

ملزم کو گذشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس کے خلاف کیس کی مختصر سماعت کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

لندن
لندن

مقتول الشیخ العروانی کے ایک بیٹے کا جس کی شناخت مرھف کے نام سے کی گئی ہے، بیان بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس اس کے بیان اور شناخت ہی پر قاتل کو پکڑنے میں کامیاب رہی ہے۔ مرھف کا کہنا ہے کہ قتل سے ایک روز قبل بھی لیزلی نامی شخص ان کے والد سے ملنے گھر پر آیا تھا۔ اسے گھرمیں ضروری مرمتی کام کے مشورے کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس وقت تک وہ یہ بہانہ بنا کرچلا گیا کہ وہ گھر کی چابیاں بھول گیا ہے اور کل دوبارہ ملاقات کرے گا۔ اگلے روز ان کی ملاقات گھر سے باہر کسی اور مقام پر طے پائی تھی تاہم ملاقات سے قبل ہی کوپر نے سنائپر پستول سے الشیخ العروانی کے سینے اور سر میں پانچ گولیاں اتار کر انہیں ہمیشہ کی نیند سلا دیا تھا۔

مغربی لندن کی ایک فوج داری عدالت کے پراسیکیوٹر روپ ڈیویز کا کہنا ہے الشیخ العروانی کے قتل کے پس پردہ سیاسی محرکات نہیں بلکہ مسجد کی ملکیت کا تنازع ہے۔ الشیخ العروانی نے اس مسجد میں امامت اور خطابت ترک کرنے کے بعد وہاں پر نماز ادا کرنا بھی چھوڑ دی تھی۔ اس پر مسجد کی انتظامیہ میں شامل بعض افراد کو سخت اعتراض تھا اور وہ الشیخ العروانی سے مکمل طور پر نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔

مسجد النور پر چھاپہ

گذشتہ روز لندن انسداد دہشت گردی پولیس نے "النور اسلامک کلچرل سینٹر" اور جامع مسجد النور پرچھاپہ مار کر 61 سالہ ایک دوسرے ملزم کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کی جانب سے الشیخ العروانی کے قتل میں ملوث دوسرے مشتبہ قاتل کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ تاہم پولیس کو وہاں سے ایسا کوئی مشتبہ شخص نہیں ملا ہے۔

خیال رہے برطانیہ میں کسی مسجد پر سنہ 2003ء کے بعد پولیس کا دوسرا چھاپہ ہے۔ سنہ 2003ء میں لندن پولیس نے القاعدہ کے سابق رہ نما ابو حمزہ المصری کے زیراستعمال "فینس بوری پارک" مسجد پر چھاپہ مارا تھا، جہاں سے المصری کو حراست میں لیا گیا تھا۔

الشیخ العروانی شام میں صدر بشارالاسد کے خاندان کے زیرعتاب رہے ہیں۔ انہوں نے شام سے متحدہ عرب امارات، کویت اور وہاں سے برطانیہ نقل مکانی کی اور آخر کار برطانیہ ہی میں مستقل طورپر مقیم ہوگئے تھے۔