.

تعز،عدن اور مآرب میں حوثیوں پر نئے فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز میں حوثی باغیوں کے زیر قبضہ ایک فوجی کیمپ پر بمباری کی ہے۔

تعز کے مکینوں کے مطابق لڑاکا طیاروں نے علی عبداللہ صالح کے وفاداروں فوجیوں کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا ہے۔اس شہروں میں حوثی باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کے وفادار فوجیوں کے درمیان خونریز جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

ادھر یمن کے جنوبی شہر عدن میں صدر منصور ہادی کے حامیوں اور باغیوں کے درمیان ساری رات جھڑپیں جاری رہی ہیں۔یمن کے مشرقی صوبے مآرب کے مکینوں نے بھی سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں کے حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں پر بمباری کی اطلاع دی ہے اور وہاں بھی مقامی مسلح قبائلیوں اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔فوری طور پر ان فضائی حملوں اور جھڑپوں میں مرنے والوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے منگل کے روز یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی مہم ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے ایک روز بعد ہی حوثیوں نے بعض محاذوں پر پیش قدمی کی تھی اور ان کی وسطی شہر تعز میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے ساتھ لڑائی شروع کردی تھی جس پر اتحادی طیاروں نے دوبارہ فضائی حملے شروع کردیے ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن فیصلہ کن طوفان کے خاتمے کے بعد اس جنگی مہم کے دوسرے مرحلے میں آپریشن بحالیِ امید کے آغاز کا اعلان کیا تھا تاکہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات کو ایک موقع دیا جاسکے لیکن ساتھ ہی اس نے خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اورعلی صالح کے وفاداروں تک اسلحے کی ترسیل کو روکنے کے لیے فضائی اور بحری ناکہ بندی کو برقرار رکھنے کی غرض سے فضائی حملے جاری رکھے گا۔