.

داعش کا یمن میں باضابطہ طور پر درانداز ہونے کا اعلان

خانہ جنگی کا شکار ملک میں حوثی باغیوں کو حملوں میں نشانہ بنائیں گے:ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے دو روز پہلے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اس نے باضابطہ طور پر یمن میں اپنی شاخ کے قیام کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو نشانہ بنائے گی۔

ویڈیو میں جنگجوؤں نے صحرائِی علاقے کے ماحول کے مطابق وردیاں زیب تن کر رکھی ہیں۔ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف رائفلیں ہیں۔وہ داعش کے ساتھ حلف وفاداری کا اعلان کررہے ہیں اور خود کو '' یمن میں خلافت کے فوجی'' قرار دے رہے ہیں۔

اس ویڈیو میں ایک جنگجو حوثی شیعہ باغیوں کو مخاطب کر کے یہ کہہ رہا ہے:''ہم یمن میں آ گئے ہیں۔ہم میں سے بہت سے آپ کے خون کے پیاسے ہیں۔آپ سے سنیوں کے خون کا انتقام لینا چاہتے ہیں اور آپ کے زیر قبضہ سرزمین کو واپس لینا چاہتے ہیں۔یہ جنگجو یمن کے سنی مردوں پر بھی داعش میں شمولیت کی دعوت دے رہے ہیں۔

امریکا کی ایک سراغرساں کمپنی اسٹریٹ فور کا کہناہے کہ ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے،ولایت صنعا کے پاس اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں اور اس کے علاوہ پوشیدہ مالی ذرائع بھی ہیں۔اسٹریٹ فار کے اندازے کے مطابق ویڈیو میں داعش کے اٹھارہ جنگجو نظر آرہے ہیں۔

نومنٹ دورانیے کی یہ ویڈیو 24 اپریل کو آن لائن پوسٹ کی گئی تھی۔اس سے ایک روز پہلے ہی یمن میں داعش سے وابستہ گرین بریگیڈ نے وسطی صوبے ایب میں پانچ حوثیوں کو حملے میں ہلاک کرنے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

قبل ازیں داعش نے 20 مارچ کو یمنی دارالحکومت صنعا میں حوثی زیدیوں کی مساجد میں خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان بم دھماکوں میں ایک سو بیالیس افراد ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ یمن کے جنوبی اور جنوب مشرقی صوبوں میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے لیکن اب آہستہ آہستہ داعش بھی خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے۔القاعدہ اور حوثی باغیوں کے درمیان اب تک دو ایک مقامات پر ہی براہ راست جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ داعش نے حوثیوں کے زیر قبضہ شہروں میں بم دھماکے کیے ہیں۔