متضاد آوازوں کے درمیان سعودی عرب کا مؤقف
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا حالیہ دورہ امریکہ اس ناطے بھی انتہائی غیر معمولی تھا کہ اسے کامیابی کے ہر نشان سے نوازا گیا۔ قطع نظر اس کے کہ جو معاہدات کیے گئے ہیں ان کا نتیجہ ابھی آنا باقی ہے۔
جو بڑی کامیابی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حاصل کی وہ ان امریکی تحفظات اور رکاوٹوں کو توڑنا تھا جو ایک طویل عرصے سے اس نوعیت کے معاہدوں کی راہ میں امریکہ کی طرف سے رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔
انہی میں اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے شرائط بھی بروئے کار تھیں۔ لیکن شہزادہ محمد بن سلمان ان سے ماورا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مملکت کے لیے کئی وعدے لینے اور کئی معاہدے کرانے میں کامیاب رہے۔
ٹرمپ نے اس امر سے اتفاق کیا کہ مملکت امریکہ کی بہترین مصنوعات تیار کرنے والی انڈسٹری سے استفادہ کرے گی اور وہ انڈسٹری سعودی عرب لائی جا سکے گی۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی اتفاق کیا کہ وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ سعودی عرب میں جوہری صنعت کے قیام میں تعاون کریں گے اور مملکت میں موجود یورینیئم کے ذخائر کو بروئے کار لایا جائے گا۔
نتیجتاً اسرائیل کا امریکی انتظامیہ کے ساتھ پہلے سے چلا آ رہا مقام متاثر ہوا جس سے وہ کئی دہائیوں سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔ مزید یہ کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے اس دورے کے موقع پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو 'نارملائز' کرنے کے لیے موجود دباؤ کی بھی مزاحمت کی اور واضح طور پر کہا کہ فلسطینیوں کی آزاد ریاست سے پہلے ایسی کوئی 'نارملائزیشن' ممکن نہیں ہو سکتی۔
تب سے لے کر کئی ایسے واقعات کو دیکھا جا سکتا ہے جن کے ساتھ صہیونی ترجمان جڑے نظر آتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو نیتن یاہو کے تیار کردہ بیانیے کے ساتھ اپنے بھونکنے کی آواز شامل کر رہے ہیں۔ ان میں اسرائیل کے بعض عرب دوست بھی شامل ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب نے اپنی سیاسی سوچ اور نظام کو بدلنا شروع کر دیا ہے اور یہ اسلامی انتہائی پسندی کی طرف جانا چاہتی ہے۔ جیسا کہ قطر، ترکیہ اور ایران کے علاوہ بعض دیگر جگہوں پر ہو رہا ہے۔
ان عناصر نے صرف یہی نہیں سعودی عرب کو اخوان المسلمون کے ساتھ قربت اور ہم آہنگی کے دعوے کے ساتھ بھی پیش کیا ہے اور اس کی پروا کیے بغیر کیا ہے کہ ان کے دعوؤں پر مبنی یہ بیانیہ کتنا تلخ اور ہولناک ہونے کے ساتھ ساتھ محض ایک شور و غوغا ہے۔
مملکت اسلامی قائدانہ کردار کی حامل ہے اور جو صحیح ڈاکٹرائن کے ساتھ صحیح راستے پر ہے۔ خصوصا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر قیادت جو کہ حرمین شریفین کے متولی ہیں اور مملکت میں اخوان المسلمون کئی سال پہلے شاہ عبداللہ مرحوم کے زمانے میں ہی ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر پابندیوں کی زد میں آ چکی ہے۔ مملکت یہی سلوک اس دہشت گرد گروپ کے ساتھ بھی کر چکی ہے جسے داعش کہا جاتا ہے اور مملکت اس کو ایک لغو تنظیم کے طور پر دیکھتی ہے۔
امریکہ میں ہونے والے نائن الیون کے واقعے سے پہلے سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف مہم کی قیادت کی تھی اور اسی نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے اقوام متحدہ کی سطح پر ایک ادارہ قائم کیا جائے۔
بعد ازاں مملکت نے اپنے ہاں دہشت گردوں کی ذہنی و فکری بحالی کے لیے کاؤنسلنگ کا ایک دفتر اپنے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا۔ جس نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ دہشت گردانہ خیالات اور فکر کی بیخ کنی کی اور مسلمان ملکوں کو ملا کر ایک اسلامی فوج کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ جس کا واحد مقصد ٹیررازم کے خلاف مل کر کارروائی کرنا ہے۔
اس مشترکہ اسلامی فوج کا ہیڈکوارٹر ریاض میں قائم کیا گیا ہے۔ جس میں 40 سے زائد ملک شامل ہیں اور وہ باہمی مشاورت اور مہارت کی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف متحرک ہیں۔
اس کے بعد ہی نیتن یاہو اپنے مکروہ خیالات کے ساتھ آگے آتے ہیں تاکہ عرب ریاستوں کی جغرافیائی اعتبار سے ہم آہنگی کو غیر مستحکم کر سکیں۔ اس کا آغاز شام سے کیا جاتا ہے جہاں نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی جنگ چھیڑ کر اب شام کی دروز اور مسیحی اقلیتوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔
نہ صرف یہ بلکہ اسرائیل نے اپنی اس مکروہ سوچ کا دائرہ صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ تک پھیلانے کی کوشش کی اور صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ پھر جنوبی یمن میں الزبیدی کے علیحدگی پسندانہ عزائم سے اپنے آپ کو جوڑا۔
مگر مملکت جس کی بنیاد شاہ عبدالعزیز کے ذریعے رکھی گئی تھی۔ اللہ شاہ عبدالعزیز کی روح کو راحت دے۔ مگر بعض لوگوں نے مملکت کو بدنیتی کی بنیاد پر اپنے الزامات کا نشانہ بنایا۔ یہ لوگ دراصل مملکت کی خوشحالی و استحکام کے ساتھ ساتھ عقیدہ توحید سے جڑے اس کے اصولوں سے ناراض ہیں کہ مملکت میں اس اصول کو شعوری طور پر اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔
اسی وجہ سے شام میں نصیریوں کے دور عروج میں بھی مملکت پر الزامات لگائے گئے۔ حتیٰ کہ اسلام سے منحرف ہونے والوں نے بھی مملکت پر سیکولر ازم کا الزام لگایا۔ ادھر کئی مغربی طبقوں نے مملکت پر دہشت گردی کا الزام لگایا۔ باوجود اس کے کہ مملکت کا راستہ سیدھا رہا ہے نہ مشرق نہ مغرب۔ جیسا کہ شاہ فیصل بن عبدالعزیز مرحوم نے ایک بار کہا تھا آج ہمارے بادشاہ اور ولی عہد انتھک انداز میں دشمن کے نیزوں کو ناکام بنا رہے ہیں اور عرب دنیا کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا کو بھی پوری ثابت قدمی کے ساتھ رہنمائی دے رہے ہیں۔