.

امریکا:شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر اظہارِ تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شام میں شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی نئی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں گذشتہ ہفتے تین دیہات میں کلورین گیس کے حملے کی اطلاع سامنے آئے تھی جس کے نتیجے میں ایک سو سے زیادہ افراد متاثر ہوئے تھے۔شامی فوج نے مبینہ طور پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بیرل بموں ان دیہات پر برسائے تھے اور ان سے کلورین گیس کا اخراج ہوا تھا۔

اس دوران عالمی معائنہ کاروں نے شام میں فوج کے تحقیقاتی ادارے کی جگہ پر خطرناک گیس سیرن اور اعصابی نظام کو متاثر کرنے والے مواد وی ایکس کی موجودگی کی اطلاع دی ہے۔شام نے کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم او پی سی ڈبلیو کو پہلے اس جگہ کے بارے میں اطلاع نہیں دی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے بدھ کو معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ''ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ او پی سی ڈبلیو کو شام میں اب بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق قابل اعتبار اطلاعات موصول ہو رہی ہیں''۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ او پی سی ڈبلیو شام کی جانب سے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے اعلان کردہ اعلامیے اور برسرزمین کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے درمیان فرق کو دور کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس نے اپنی تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں''۔

شام میں کلورین گیس کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باوجود اقوام متحدہ ایسا میکانزم وضع نہیں کرسکی ہے جس سے ان حملوں کے ذمے داروں کا تعیّن کیا جاسکے۔امریکا شام میں ان کے تعیّن کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیشتر رکن ممالک بھی امریکا کی حمایت کررہے ہیں۔وہ شامی حکومت پر اپنے ہی شہریوں پر کلورین گیس کے حملوں کے الزامات عاید کررہے ہیں۔تاہم روس کا کہنا ہے کہ کسی بھی فریق پر الزام عاید کرنے سے پہلے ٹھوس شواہد فراہم کیے جانے چاہئیں۔

شام اور ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے درمیان 2013ء میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا لیکن اس میں کلورین کو کیمیائی ہتھیار قرار نہیں دیا گیا تھا کیونکہ اس کو صنعتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔او پی سی ڈبلیو کی سربراہ اینجیلا کین نے اپریل کے اوائل میں کہا تھا کہ ان کے ادارے نے شام میں کلورین گیس کے حملوں سے متعلق حالیہ الزامات کی ابھی تحقیقات شروع نہیں کی ہیں۔