خلیج کے دفاع کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

خلیج کےعرب ممالک کے سربراہان کا کیمپ ڈیوڈ میں امریکی صدر براک اوباما کی زیر صدارت سربراہ اجلاس اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کے دفاع کے لیے امریکا کو فوجی طاقت کے استعمال کی ضرورت پڑی تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کیمپ ڈیوڈ سربراہ اجلاس کے اعلامیے میں خلیجی ممالک اور امریکا کے مابین تزویراتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ خلیجی ممالک کو کسی بھی اندرونی اور بیرونی خطرے کی صورت میں امریکا غیر مشروط مدد فراہم کرے گا اور ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹںے کے لیے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

کیمپ ڈیوڈ سربراہ اجلاس کے اختتام پرخطاب کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے اپنے اتحادیوں کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر کرنے کے لیے ان کی افواج کے ساتھ امریکی اسپیشل فورسز کی مشقوں کا اہتمام کیا۔ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ہم آئندہ بھی کسی بھی خلیجی ملک کو درپیش خطرے کا تدارک کرنے کے لیے ہرممکن قدم اٹھائیں گے اور خلیج کی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام خلیجی ممالک اور امریکا کے درمیان دوستانہ اور باہمی اعتماد کے رشتے میں بندھے تعلقات قائم ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک جلدازجلد ضروری اسلحہ خلیجی ممالک میں منتقل کرے گا۔ اس کے علاوہ خلیجی ریاستوں کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات سے آگاہی کے لیے ’’پیشگی وارننگ‘‘ سسٹم بھی لانچ کرے گا۔ نیز خطے میں میزائل سازی کی صلاحیت کو بھی بہتر بنانے میں مدد فراہم کی جائے گی۔

کیمپ ڈیوڈ سربراہ اجلاس میں شام اورعراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے بڑھتے خطرے کےتدارک کے لیے کارروائی جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکا خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کرکام کرے گا۔ یمن کے بحران کے بارے میں امریکا اور خلیجی ممالک نےاتفاق کیا کہ یمن میں ہرصورت میں آئینی حکومت کو بحال کیا جائے گا۔ نیز ملک میں سیاسی استحکام کے لیے خلیجی ممالک کے وضع کردہ فریم ورک ہی کےمطابق آئندہ کی حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور ایران کےجوہری پروگرام کے عرب ممالک کو درپیش خطرات کے بارے میں بھی تفصیل سے غور کیا گیا۔ امریکا اور خلیجی ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مل کر جنگ جاری رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس کے اعلامیے میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پرعالمی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتے پربات کی گئی اور کیا گیا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر شفاف سمجھوتا خطے کی سلامتی کے لیے بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔

کیمپ ڈیوڈ سربراہ اجلاس میں شام میں جاری کشیدگی بھی زیربحث رہی۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ شامی صدر بشارالاسد اپنی عوام کے خلاف طاقت ک وحشیانہ استعمال کرکے آئینی حیثیت کھو چکے ہیں۔ شام کے مستقبل میں ان کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہوگا۔ امریکا اور خلیجی ممالک کا اس بات پربھی اتفاق پایا گیا کہ صدر اسد کو اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔ نیزانہیں اپنے عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا سلسلہ بند کرہوگا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے آخری خطاب میں کہا کہ ان کی تمام خلیجی ممالک کے قائدین کے ساتھ تمام اہم موضوعات بالخصوص باہمی تعاون بڑھانے کے معاملے پرگہری، طویل اور مفصل بات چیت ہوئی ہے۔ اس دوران ایران کے جوہری پروگرام سے خلیجی ممالک کو درپیش خطرات پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

خلیجی ممالک کی قیادت کو بتایا ہے کہ ایران کےمتنازعہ جوہری پروگرام پر معاہدہ دراصل تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کی ایک موثر کوشش ہے تاکہ ایران خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہ ہو اوراس کی وجہ سے کسی دوسرے ملک کو کوئی خطرہ بھی رہے۔

ہم نے خلیجی ممالک کے قائدین کے ساتھ شام کے بحران، داعش کےخطرات اور اسلامی انتہا پسندی سے نمٹنے پربھی بات کی۔ ہم کسی بھی خطرے کی صورت میں خلیجی ممالک کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں گے کہ کیونکہ امریکا اور خلیج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کےاتحادی ہیں اور باہمی خطرات میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔

صدر اوباما نے خلیجی ممالک کی قیادت کے کیمپ ڈیوڈ اجلاس میں شرکت پران کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ’فوٹو سیشن‘ اجلاس نہیں بلکہ عملی اقدامات کے لیے ٹھوس فیصلے کرنے کا بہترین موقع ہے۔

خلیجی ریاست قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے تمام خلیجی ممالک کے قایدین کی طرف سے کیمپ ڈیوڈ سربراہ کانفرنس میں نیابت کے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کے ساتھ ہماری تفصیلی ملاقاتیں نہایت موثر اور نتیجہ خیز رہی ہیں۔ امریکا اور خلیجی قیادت کے درمیان کئی امور پراتفاق رائے پایا گیا ہے۔

ایران کےجوہری پروگرام کے خطرے کے حوالے سے امیر قطر کا کہنا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ خطے میں امن واستحکام کا ذریعہ بنے۔اس کے ساتھ ساتھ خلیجی قیادت کی امریکی حکام سے ملاقاتوں میں خطے میں بیرونی عدم مداخلت پربھی اتفاق رائے پایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں