ایرانی جوہری پروگرام پر سمجھوتے کا حتمی اختیار کانگریس نے لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر چھ عالمی طاقتوں پر امریکی کانگریس کی ‘فتح‘ دکھائی دیتی ہے کیونکہ کانگریس نے قانونی سازی کے ذریعے ایران کے ساتھ معاہدے کا حتمی اختیار حاصل کرلیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کے روز ایران کے متنازہ جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے حوالے سے ایوان نمائندگان میں بل پیش کیا گیا۔ ایوان میں شریک 400 ارکان نے بل کی حمایت جبکہ صرف 25 نے اس کی مخالفت کی۔ بہ الفاظ دیگر کانگریس نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتے کا حتمی اختیار کانگریس ہی کے پاس ہوگا۔ قبل ازیں 7 مئی کو امریکی سینیٹ بھی کثرت رائے کے ساتھ ایسا ہی ایک بل منظور کرچکی ہے جس میں ایران کے ساتھ معاہدے کا حتمی اختیار کانگریس کو تفویض کیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایوان نمائندگان کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ’ایڈ رویز‘ نے کہا کہ ’’ایوان میں ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے حوالے سے پیش کیے گئے بل پر رائے شماری ہمارے لیے قابل قبول ہے۔ اس رائے شماری نے کانگریس کا کردار مزید واضح کردیا ہے۔ وہ یہ کہ کانگریس ہی ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کا اختیار رکھتی ہے۔ رائے شماری سے صدر اوباما انتظامیہ کے ایک ’بُرے‘ فیصلے کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما ایران کے جوہری پروگرام پر تہران کے ساتھ امن سمجھوتے کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے شروع میں کانگریس کی جانب سے ایران کے ساتھ سمجھوتے پر کسی قسم کی رائے دینے کی بھی مخالفت کی تھی۔ اب چونکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں سینٹ اور ایوان نمائندگان میں ایران کے ساتھ معاہدے کا اختیار کانگریس نے حاصل کرلیا ہے لیے اب 30 جون کو ممکنہ طور پر چھ عالمی طاقتوں [امریکا، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی] کے ایران کے ساتھ معاہدے میں کانگریس کا کردار کلید ہوگیا ہے۔ اگرچہ دو اپریل کو سوئٹرزلینڈ میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے عارضی معاہدے کے وقت بیشتر فیصلے صدر براک اوباما کی جانب سے کیے گئے تھے تاہم ڈیموکریٹس ارکان کی اکثریت نے بھی اس معاملے پر بتدریج قانون ساز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

حال ہی میں امریکی صدر باراک اوباما یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں کسی قسم کی آئین سازی کو حائل نہیں ہونے دیں گے۔ آنئدہ منگل کو ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور بھی شروع ہو رہا ہے۔ یہ مذاکرات جون یا جولائی میں تہران اور چھ بڑی طاقتوں کے مابین کسی حتمی سمجھوتے کے لیے جاری بات چیت کا تسلسل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں