.

مصر:جزیرہ سیناء میں فائرنگ سے تین مصری ججوں سمیت چار ہلاک

دو جج شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل، حملہ آور فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سیکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جزیرہ نما سیناء کے شمال میں دہشت گردی کے حملے میں تین مصری جج اور ان کا ڈرائیور ہلاک اور دو جج زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ ہفتے کے روز سابق معزول صدر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے رہ نمائوں کی سزائے موت کے متعلق ایک مقدمہ کو مفتی اعظم کو بھجوائے جانے کے کچھ ہی دیر بعد پیش آیا ہے۔ ممکنہ طور پر یہ کارروائی کیس کو مفتی اعظم کو بھجوانے کا رد عمل ہوسکتا ہے۔

مصری سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی سینا میں‌ ہفتے کے روز العریش کے مقام پر پیش آئے دہشت گردی کے واقعے کی ذمہ داری "انصار بیت المقدس" نامی گروپ نے قبول کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کے ایک گروپ نے ججوں کو لے جانے والی ایک وین پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین جج اور ان کا ڈرائیور موقع پر ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ حملہ آور واردات کے بعد بہ حفاظت فرار ہوگئے۔ فائرنگ سے گاڑی کا ڈرائیور شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں اسپتال پہنچتے ہی زخموں‌ کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ تمام زخمیوں‌ کو العریش ملٹری اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی شروع کی ہے تاہم آخری اطلاعات تک کسی شخص کی گرفتاری عمل میں‌ نہیں لائی جاسکی ہے۔

خیال رہے جزیرہ نما سیناء میں سرگرم "انصار بیت المقدس" نامی گروپ نے ماضی میں بھی مصری فوج پر خون ریز حملے کیے ہیں جن میں کئی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس تنظیم نے شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی"داعش" کے ساتھ بھی اپنا ناطہ جوڑ رکھا ہے۔