.

ایران کو یمن مذاکرات میں مدعو نہیں کیا جائے گا:سعودی سفیر

حوثی باغیوں نے جنگ بندی کے دوران سعودی علاقوں پر 74 حملے کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں متعیّن سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کہ وہ یہ ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ ایران کو 28 مئی کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام یمن کے متحارب دھڑوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے بدھ کے روز نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ایران کو جنیوا مذاکرات میں مدعو کرنے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا ہے۔عبداللہ المعلمی نے قبل ازیں اقوام متحدہ میں متعیّن یمنی اور قطری سفیروں سے ملاقات کی اور ان تینوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ایران کو ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہیں دی جانی چاہیے۔

انھوں نے یمن کے حوثی باغیوں پر پانچ روزہ جنگ بندی کے وقفے کے دوران سعودی عرب کے سرحدی علاقوں پر چوہتر حملے کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر تنازعے کے تمام فریق جنگ بندی کی پاسداری کا وعدہ کریں تو سعودی عرب فضائی حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی تجدید سے متعلق حتمی فیصلے کا اختیار سعودی عرب کے عسکری قائدین کو حاصل ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب ایران پر یمن میں حوثی باغیوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کے الزامات عاید کررہا ہے لیکن ایران ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔