.

سعودی عرب :حزب اللہ کے دو عہدے دار دہشت گرد قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے دو سینیر عہدے داروں کو مشرق وسطیٰ بھر میں طوائف الملوکی اورعدم استحکام پھیلانے سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر''دہشت گرد'' قرار دے دیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق ان دونوں عہدے داروں میں ایک کا نام خلیل یوسف حرب ہے۔یہ صاحب حزب اللہ کے ملٹری کمانڈر ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ملیشیا کی کارروائیوں کے انچارج ہیں۔وہ یمن میں بھی اس گروپ کی سرگرمیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔

دہشت گرد قرار دیے گئے دوسرے عہدے دار کا نام محمد قبلان ہے۔ان صاحب کو مصر کی ایک عدالت نے سنہ 2010ء میں دہشت گردی کے ایک سیل کی قیادت کے الزام میں ان کی عدم موجودگی میں قصور وار قرار دیا تھا۔اس سیل کو مصر میں آنے والے غیرملکی سیاحوں پر حملوں کا مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

ایس پی اے کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ دونوں عہدے دار شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کی حمایت سے متعلق سرگرمیوں اور شام میں جاری خونیں تنازعے میں شرکت کے لیے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے بھی ذمے دار ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے محکمہ خزانہ نے سعودی عرب کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔سعودی اقدام کے تحت حزب اللہ کے ان دونوں کمانڈروں پر مالیاتی پابندیاں عاید کردی گئی ہیں،سعودی عرب میں موجود ان کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں اور سعودی شہریوں پر ان کے ساتھ کسی قسم کا لین دین کرنے پر پابندی ہوگی۔

ایس پی اے نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''حزب اللہ جب تک عدم استحکام کی سرگرمیاں اور دہشت گردی کے حملے جاری رکھتی ہے ،دنیا بھر میں مجرمانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو ہم اس کے کارکنان ،لیڈروں اور کاروباروں پر پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے''۔

یادرہے کہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے گذشتہ سال مارچ میں ملک اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والی متعدد تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور مصر کی اخوان المسلمون بھی شامل تھی۔