امریکی اور ایرانی وزرائے خارجہ میں اختتام ہفتہ پر ملاقات
ڈیڈلائن سے قبل جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت کریں گے
ایران اور امریکا کے وزرائے خارجہ کے درمیان اسی اختتام ہفتہ پر سوئٹزر لینڈ میں ملاقات ہوگی جس میں وہ جامع جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کریں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جیف راتھک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرخارجہ جان کیری اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کے ساتھ 30 جون کی ڈیڈلائن سے قبل جوہری معاہدے کو طے کرنے کے لیے بات چیت کریں گے۔
یورپی اور ایرانی عہدے داروں کے خیال میں جوہری سمجھوتے سے متعلق تصفیہ طلب امور کو طے کرنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہوگا مگر مسٹر راتھک کا کہنا ہے کہ امریکا ڈیڈلائن میں توسیع پر غور نہیں کررہا ہے۔
محکمہ خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کی اعلیٰ جوہری مذاکرات کار انڈر سیکریٹری وینڈی شرمین ایران کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کے بعد ہی وہاں سے اٹھیں گی۔
مس شرمین ہی نے گذشتہ دو سال کے دوران یورپ میں ایرانی عہدے داروں کے ساتھ جوہری تنازعے سے متعلق فنی امور پر بات چیت کی ہے۔ان کے مذاکرات کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان نومبر 2013ء میں عبوری سمجھوتا طے پایا تھا اور اس سال اپریل میں فریم ورک معاہدے پر اتفاق ہوا تھا۔
جان کیری نے شرمین کو اپنی ٹیم کی اہم رکن قرار دیا ہے اور ان کی مذاکراتی مہارت کی تعریف کی ہے۔وہ آج جمعرات کو واشنگٹن سے نائیجیریا کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے جہاں وہ نومنتخب صدر محمدو بحاری کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
وہ جنیوا میں مذاکرات کے بعد میڈرڈ جائیں گے جہاں وہ ہسپانوی بادشاہ اور وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔اس کے بعد وہ پیرس میں دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ سے متعلق کانفرنس میں شرکت کریں گے۔