یورپی یونین کی شام پر پابندیوں میں ایک سال کی توسیع

بشارالاسد کے خاص ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار پابندیوں کا شکار شخصیات میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی یونین نے شامی صدر بشارالاسد اور ان کے مصاحبین پر عاید پابندیوں میں مزید ایک سال کے لیے توسیع کردی ہے اور پابندیاں کا شکار شامی عہدے داروں کی فہرست میں ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار کا نام بھی شامل کر لیا ہے۔

یورپی یونین نے سنہ 2011 ء میں شامی حکومت کے اپنے مخالف شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد صدر بشارالاسد اور ان کے حامیوں کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا تھا۔اب تک یورپی یونین دو سو زیادہ شامی شخصیات اور ستر اداروں پر پابندیاں عاید کرچکی ہے۔اس اقدام کے تحت ان کے یورپی ممالک میں اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں عاید ہیں۔

یورپی یونین کی حکومتوں نے اب شام کے ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار پر بھی سفری پابندیاں عاید کردی ہیں اور یورپی ممالک میں ان صاحب کے اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں۔تاہم آج جمعہ کو یورپی یونین کے جرنل کی اشاعت تک اس شامی فوجی افسر کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔اس اعلیٰ فوجی افسر پر دمشق اور اس کے نواحی علاقوں میں شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ان پر جبرواستبداد کے حربے آزمانے کے الزامات ہیں۔

یورپی یونین نے شام کو ایسا مواد برآمد کرنے پر پابندی عاید کررکھی ہے جو لوگوں کو جبرواستبداد کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوسکتا ہو۔اس کے علاوہ شام سے یورپی ممالک میں تیل درآمد کرنے پر بھی پابندی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں