امریکا کے قریباً 40 لاکھ وفاقی ملازمین کا ڈیٹا ہیک
ہیکروں نے دفتر برائے پرسونل مینجمنٹ کے کمپیوٹر نیٹ ورکس سے ذاتی فائلیں چُرالیں
امریکا کے قریباً چالیس لاکھ وفاقی ملازمین کا کمپیوٹر نیٹ ورکس پر موجود ڈیٹا ہیک کر لیا گیا ہے اور امریکی عہدے داروں نے الزام عاید کیا ہے کہ ڈیٹا ہیک کرنے کی یہ بڑی واردات چین سے تعلق رکھنے والے ہیکروں نے کی ہے۔
امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے جمعرات کو ایک بیان میں دفتر برائے پرسونل مینجمنٹ اور محکمہ داخلہ کا ڈیٹا ہیک ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اب وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف بی آئی) اس امر کی تحقیقات کررہی ہے کہ یہ واقعہ کیونکر رونما ہوا ہے۔
امریکی سینیٹ کی ری پبلکن رکن سوسان کولنز نے بھی کہا ہے کہ ہیکر چین سے تعلق رکھتے ہیں۔کولنز سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی رکن ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ ایک اور دراندازی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک غیرملکی قوت ان لوگوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے جن کی سکیورٹی کلیئرینس کی جاتی ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے اس طرح کے الزامات کو غیر ذمے دارانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا جوابی ردعمل ہوسکتا ہے۔ترجمان ژو حائقوآن نے جمعرات کی شب ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ایک ملک سے دوسرے ملک پر سائبر حملے کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔اس لیے حملے کے منبع کی شناخت بھی مشکل ہوتی ہے''۔
انھوں نے کہا کہ باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ہیکنگ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ایک امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ہیکنگ سے ہر وفاقی ایجنسی متاثر ہوسکتی ہے۔ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا خفیہ ایجنسی کے ملازمین سے متعلق معلومات بھی چوری کر لی گئی ہیں اور اس سے سابق سرکاری ملازمین بھی اس سے متاثر ہوں گے۔
دفتر برائے پرسونل مینجمنٹ (او پی ایم) وفاقی حکومت کا محکمہ انسانی وسائل ہے۔یہ سکیورٹی کلیئرینس کے لیے پس پردہ چیک رکھتا ہے۔اس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ دفتر نوّے فی صد سے زیادہ پس پردہ وفاقی تحقیقات کرتا ہے۔
واضح رہے کہ نومبر میں ڈی ایچ ایس کے ایک سابق کنٹریکٹر نے ڈی ایچ ایس کے کمپیوٹر نیٹ ورک میں دراندازی کرکے پچیس ہزار سے زیادہ ملازمین کی ذاتی فائلوں کا ڈیٹا ہیک کر لیا تھا۔
سائبر سکیورٹی کے ماہرین کے مطابق ایک سال قبل بھی او پی ایم کے نیٹ ورک پر سائبر حملہ کیا گیا تھا اور یہ بھی چین سے کیا گیا تھا۔تاہم اس حملے میں کوئی ڈیٹا چوری نہیں ہوا تھا۔
ایک سکیورٹی ماہررک ہولینڈ نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہیکر کمپیوٹر نیٹ ورکس سے سرکاری ملازمین کی فائلوں سے چوری کی گئی معلومات کو مالی فائدے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔اس نئے کیس میں ہیکروں نے بظاہر ٹیکس دہندگان بن کر ٹیکس ریٹرن فائلوں کی معلومات حاصل کی ہیں۔
امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چئیرمین رچرڈ بور کا کہنا ہے کہ ''حکومت کو سائبر سکیورٹی کے دفاعی نظام کو ازسر نو ترتیب دینا چاہیے اور ہمارا ردعمل محض یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس طرح کے سائبر حملوں کے بعد ملازمین کو یہ اطلاع دینے پر ہی اکتفا کرتے رہیں کہ ان کا ذاتی ڈیٹا چوری کر لیا گیا ہے۔ہمیں ترجیحی طور پر اس طرح کی دراندازیوں کو روکنا ہوگا''۔