.

جرمن ثالثی میں حماس-اسرائیل تبادلہ اسیران معاہدہ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماضی میں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلوں کے معاہدے کرانے میں اہم کردار ادا کرنے والے ملک جرمنی نے ایک بار پھر اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی نئی ڈیل کی کوششیں شروع کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جرمنی کے توسط سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے پس چلمن بات چیت جاری ہے۔ تاہم دوسری جانب فریقین اس حوالے سے خاموش ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی بات چیت ابتدائی مراحل میں ہے اور کئی طرح کی پیچیدگیوں کا بھی شکار ہے، تاہم جرمن حکومت فریقین کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے زمین پرلانے کی کوشش کررہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس نے جرمنی یا کسی بھی دوسرے ملک کو غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔ البتہ یہ کہا ہے کہ وہ مغوی اسرائیلی فوجیوں کو اسی وقت رہا کریں گے جب اسرائیل "گیلاد شالیت" کی رہائی کے بدلے رہا کردہ فلسطینیوں کو جنہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا کو چھوڑے گا۔

فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی "فریڈم فائونڈیشن" کے چیئرمین حلمی الاعرج کا کہنا ہے کہ "موجودہ حالات اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے سازگارہیں لیکن اس حوالے سے پس چلمن کیا ہو رہا ہے اس کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

حالیہ دنوں میں ایک پیش رفت جرمن وزیرخارجہ کا فلسطین اور اسرائیل کا دورہ بھی ہے۔ جرمن وزیرخارجہ فرانک اشٹائنمر نہ صرف مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی قیادت سے ملے بلکہ انہوں نے جنگ سے تباہ حال غزہ کا بھی دورہ کیا۔ غزہ دورے کے دوران وہ اہالیان غزہ کے بہی خواہ دکھائی دیے۔ انہوں نے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور جنگ سے تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیر نومیں تیزی لانے پربھی زور دیا۔ غزہ دورے کے موقع پرجرمن وزیرخارجہ نے"خوراک برائے امن" کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ غزہ کی پٹی "بارود " کے ڈھیر پرہے۔

درایں اثناء فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظامہ شعبہ امور اسیران کے سربراہ عیسیٰ قراقع نے جرمنی کی جانب سے حماس اور اسرائیل کےدرمیان قیدیوں کے تبادلے کی مساعی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات چیت ان کےعلم نہیں تاہم اگر فریقین اس سلسلے میں کوئی بات چیت کرتے ہیں یا حماس ان سے قیدیوں کی فہرست مانگتی ہے توہ وتعاون کو تیار ہیں۔

خیال رہے کہ عیسیٰ قراقع بھی پچھلے ہفتے جرمنی کا دورہ کرچکے ہیں۔ جہاں انہوں نے اسیران سےمتعلق ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

جرمنی ۔۔۔ سابق ثالث

جرمنی ماضی میں بھی اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے ساتھ معاہدے کرانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چار سال پیشتر غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی ایک ڈیل میں بھی جرمنی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے اپنے ایک مغوی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے میں 1027 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔ ان میں سے بیشتر عمرقید کے سزا یافتہ تھے۔

جرمنی نے اس سے قبل لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اسرائیل کےدرمیان بھی قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے میں ثالثی کی تھی۔

حال ہی اسرائیلی جیل میں قید حماس کے ایک ملٹری کمانڈر عبداللہ البرغوثی کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے جماعت کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی قیادت پر زور دیا تھا کہ وہ قیدیوں کے تبادلے کے معاملے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں اسرائیل کی جانب سے حماس کے قیدیوں کو اندھا دھند ایک سے دوسری جیل میں ٹھونسا جا رہا ہے۔ قیدیوں کی جیلوں میں ادھر سے ادھر منتقلی پرجیل انتظامیہ کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوچکی ہے۔

ادھر القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت زیرحراست اسرائیلی فوجیوں کے ٹھکانے کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کرے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو پہلے ان تمام قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا نہیں "گیلا شالیت" کے بدلے میں پہلے رہا کیا گیا تھا اور بعد ازاں دوبارہ گرفتارکرلیاتھا۔