کیا داعش کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے؟
داعش کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتی ہے، آسٹریلوی وزیر کا خدشہ
آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی بشپ نے کہا ہے کہ شدت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ 'داعش' کیمیکل ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہے اور یہ ممکن ہے کہ اس گروہ کے ٹیکنیکل ماہرین ایسے ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی بشپ کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ داعش کے ہزاروں انتہائی تربیت یافتہ رکن کیمیکل ہتھیار بنانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ جولی بشپ نے خبردار کیا ہے کہ شام و عراق میں فعال انتہا پسند گروہ اسلامک اسٹیٹ یا داعش کیمیکل ہتھیاروں، جن میں کلورین گیس بھی شامل ہے، کا استعمال کر سکتی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سڈنی میں ایک انٹرنیشنل فورم سے خطاب میں جولی بشپ نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ شام میں گذشتہ چار سالوں سے جاری خانہ جنگی کے دوران دمشق حکومت سارِن اور کلورین جیسی مہلک زہریلی گیسیں استعمال کر چکی ہے۔
جولی بشپ نے کہا کہ داعش کی طرف سے بھی ایسے ہتھیاروں کے استعمال کی اِکا دُکا کوششوں کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ گروہ کیمیکل ہتھیاروں کی تیاری کی ایک بڑی خواہش رکھتا ہے۔ پرتھ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ’’داعش کی طرف سے کلورین گیس کے استعمال اور مغرب سمیت دیگر علاقوں سے اعلیٰ ٹیکنیکل ماہرین کی بھرتیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کیمیکل ہتھیاروں کی تیاریوں میں مصروف ہے۔‘‘
آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی بشپ کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ داعش کے ہزاروں انتہائی تربیت یافتہ رکن کیمیکل ہتھیار بنانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ زہریلے کیمیاوی مواد کے پھیلاؤ کے سدباب کے لیے عالمی کارروائی کی ضرورت ہے۔