.

برطانیہ میں مسلمانوں سے نفرت میں چار گنا اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں پچھلے کچھ عرصے سے جہاں اسلام کی طرف رحجان میں اضافے کی اطلاعات ملی رہی ہیں وہیں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مملکت میں مسلمانوں سے نفرت کے منفی رحجان میں بھی چار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم "Tel Mama" فائونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے اوائل میں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے مرتکب اخبار کے دفتر اور یہودیوں کے مراکز پر ہونے والے حملوں کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ میں مسلمانوں سے نفرت کی روک تھام کے لیے سرگرم تنظیم کے ڈائریکٹر "شاہد مالک سعید" نے خبر رساں ایجنسی "اناطولیہ" کو بتایا کہ اعدادو شمار مسلمانوں کے حوالے سے جس خوفناک رواج کی نشاندہی کرتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ میں لوگ مسلمانوں اور دہشت گردی کے درمیان تعلق کے قیام میں غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں، ذرائع ابلاغ، سیاسی رہ نمائوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے لیے برطانیہ میں اب مشکلات پہلے کی نسبت زیادہ ہو رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انسانی حقوق کے کارکن نے خبردار کیا کہ اگرمسلمانوں کے حوالے سے منفی سوچ میں تبدیلی نہ آئی اور اس کی بھینٹ ایسے معصوم مسلمان بھی آسکتے ہیں جن کا کوئی قصور نہیں ہے۔

شاہد سعید کا کہنا تھا کہ پچھلے بارہ ماہ کے دوران پیرس، کوپن ہیگن اور سڈنی میں پیش آنے والے بعض واقعات پر جس طرح ذرائع ابلاغ نے واقعات کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے کسی حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اسےاپنانے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جون 2014ء کے بعد سے تنظیم کو انٹرنیٹ پر برطانیہ میں مسلمانوں کی 548 شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں دھمکیوں، جنسی طورپر ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے جیسی شکایات شامل تھیں۔ بہت سی مسلمان خواتین کو ان کے مخصوص لباس اور حجاب کی وجہ سے ہراساں کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری میں فرانسیسی اخبار"چارلی ایبڈو" کے ہیڈ کواٹرپرحملے، پچھلے سال دسمبر میں سڈنی میں لوگوں کو یرغمال بنائے جانے اور فروری میں کوپن ہیگن میں ایک مسلح کارروائی کےبعد برطانیہ میں مسلمانوں کی طرف سے شکایات میں چار گنا اضافہ دیکھا گیا۔